Tuesday, 5 February 2019

اور ہمیں پھر کشمیر یاد آیا تھا


پانچ فروری یوم یکجہتی کشمیر پاکستان بھر میں بھرپور جوش و خروش سے منایا گیا ملک بھر میں جگہ جگہ احتجاج، ریلیاں، جلوس، مظاہرے، سیمینار، کانفرنسیں منعقدہ ہوئیں، پڑوسی ملک کے جھنڈے نذر آتش کئے گئے، بچوں کو کفن پہنا کر ریلیوں میں لایا گیا، ملک کی زمینوں کو بھارت کے ترنگے سے رنگا گیا، پھر اس پر جوتے رکھے گئے، گاڑیاں گزاری گئیں، تھوکا گیا، جذباتی نعرے لگائے گئے، سیلفیاں بنوائی گئیں، اپلوڈ کی گئیں، پھر کیا ہوا ؟ دن ختم ہوا اور ہم بھول گئے کشمیر کو،اب ایک سال بعد دیکھیں گے جب پانچ فروری
آئے گا تب تک کے لئے؟
کشمیر کیا ہے؟ کشمیر ڈے پر چھٹی کے باعث خلاف معمول گھر کے باہر کھڑا تھا ساتھ ہی پتھارے پر کچھ محلے کے افراد بیٹھے ہوئے تھے جن میں دو نوجوان ایک پکی عمر جبکہ دو بزرگ تھے وہ کشمیر کے حوالے سے بحث و مباحثے میں مصروف تھے تو نہ چاہتے ہوئے بھی قدم ان کی جانب بڑھ گئے، سلام دعا کے بغیر بحث میں شامل ہوتے ہوئے میں نے یکدم ان سے سوال کیا کہ کشمیر کیا ہے تو ان افراد میں شامل ایک نواجوان بلکل جھگڑنے والے انداز میں بولے کشمیر ہماری شہ رگ ہے، ان کا جملہ ختم ہوا تو دوسرا نوجوان بولا کشمیر ہماری جان ہے، ان صاحب کے رکتے ہی ایک ادھیڑ عمر بزرگ جو ستر کی عمر سے زیادہ ہی لگ رہے تھے لپک کر بولے کشمیر کے لئے ہم اپنی جان دینے کو بھی تیار ہیں، تواتر سے جذباتی جوابات سن کر میں نے خیر اس میں ہی سمجھی کہ ان کی باتوں پر سر ہلاتے ہوئے آگے بڑھا جائے، اس میں کوئی شک نہیں کہ جواب دینے والے ان تمام افراد کا جذبہ قابل دید تھا، ان ہی سوچوں میں مگن چلتے چلتے اپنے گھر سے کچھ فاصلے پر موجود پریس کلب پہنچا تو سامنے مختلف سیاسی، سماجی، دینی، کاروباری اور دیگر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنے سامنے پایا، وہ ٹولیوں کی شکل میں بینرز ، پاکستانی پرچم سمیت مختلف سیاسی پارٹیوں کے جھنڈے پکڑے کھڑے تھے، قریب جاکر معلوم کیا تو پتا چلا کہ وہ پریس کلب پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے جمع ہوئے ہیں اورکوریج کے لئے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں، بات چل ہی رہی تھی کہ ایک نجی چینل کے مقامی صحافی کی تیز آواز کی جانب توجہ مرکوز ہوگئی، وہ محترم فرمارہے تھے کہ پانچ منٹ ہیں سب کے پاس جمع ہوتے جاؤ، کوریج کروالو، اس آواز کی گونج کے ساتھ ہی ایک افراتفری کا ماحول پیدا ہوگیا اور موجود افراد کچھ کچھ فاصلے پر ٹولیاں بنا کر جھنڈے اور بینر کھول کر کھڑے ہوگئے، فوٹوگرافرز اور کیمرا مین ایک ٹولے کی کوریج کرتے پھر وہ چلا جاتا پھر دوسرا اس کی جگہ لیتا اس کی کوریج ہوتی یوں یہ قصہ چلا، سورج ڈھلتے ہی کچھ افراد نے شمعیں روشن کیں جس کے بعد سب چلتے بنے،یوں کشمیر ڈے ختم ہوگیا ۔ ذہن میں تواتر سے سوالوں کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوگیا کہ کیا یہی حق تھا ہمارا کشمیریوں کے لئے، کیا ایک دن کا احتجاج کافی ہے، کیا سرکاری چھٹی کرنا، سیمینار منعقد کرنا، چینلوں پر ایک روز کے لئے کشمیر کی بات کرنا پھر بھول جانا کیا بس یہ کشمیر ہے ؟ کیا اس سے ادا کردیا ہم نے بندوقوں سے چھلنی ہوکر موت کی وادیوں میں جانے والے کشمیریوں کا حق؟ کیاہوگیا حق ادا برہان وانی کی شہادت کا ؟ کیا نہتے کشمیریوں پر بیلٹ گنوں کے استعمال کو ہم بھول گئے ہیں؟ کیا مل گئی کشمیر کو آزادی؟ ہمیں سوچنا ہوگا ، کشمیر میں بہتے خون کا ہمیں سوچنا ہوگا ۔ 

آج وہ کشمیر ہے کہ محکوم و مجبور و فقیر
کل جسے اہل نظر کہتے تھے ایران صغیر

بھارت اپنے تماتر مظالم اور ریاستی جبر کے باوجود کشمیریوں کی تحریک آزادی کو ختم نہیں کر سکا، کشمیریوں کا یقین ہے کہ شکست غاصب بھارت اور آزادی مظلوم کشمیریوں کا مقدر بنے گی۔ حکومت پاکستان کو بھی چاہیے کہ وہ زبانی دعوؤں کے بجائے کشمیر کی آزادی کے لیے سیاسی اور سفارتی سطح پر مضبوط اور منظم آواز بلند کرنے کے ساتھ ساتھ عملی طور پر بھی اقدامات کرے۔


تحریر: وارث بن اعظم

Tuesday, 23 October 2018

بھٹ جا بھٹائی



ہالا میں پیدا ہونے والا عبدالطیف جسے دنیا شاہ عبدالطیف بھٹائی کے نام سے جانتی ہے دنیا سے رخصت ہونے کے 275 سال بعد بھی اپنے کلام کے ذریعے زندہ ہے، آج بھی بھٹ شاہ میں روزانہ کی بنیاد پرشاہ کے سینکڑوں مرید شاہ کے مزار پر حاضری دینے کے بعد شاہ کے راگی فقیروں کے کلام پر جھومتے ہیں۔ 
بدھ سے سندھ کے عظیم صوفی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی کا تین روزہ 275 واں سالانہ عرس شایان شان طریقے سے منایا جارہا ہے، اس ضمن میں سندھ حکومت کی جانب سے عرس کے پہلے روز عام تعطیل کا اعلان بھی کیا گیا ہے، شاہ عبداللطیف بھٹائی ۱۱۰۱ھ بمطابق ۱۶۸۹ء کو ضلع حیدرآباد کے تعلقہ ہالا میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد کا نام سید حبیب تھا ۔

آپ کے والد علاقہ میں تقوی اور پرہیز گاری کے لئے مشہور تھے اور قریب و جوار کے علاقوں میں بڑی عزت و احترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے ۔شاہ عبدالطیف کی والدہ کا تعلق بھی سادات خاندان کے علمی گھرانے سے تھا ، پانچ سال کی عمر میں آپ کو آخوند نور محمد کی علمی درسگاہ میں داخل کیا گیا ، روایت ہے کہ شاہ عبدالطیف نے الف سے آگے پڑھنے سے انکار کردیا تھا لیکن شاہ صاحب کے کلام میں انکی علمی کوششوں کا عمل دخل نمایاں طور پر محسوس ہوتا ہے ۔ شاہ صاحب کے مجموعہ کلام شاہ جو رسالو کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاہ صاحب کو علم سے بخوبی واقفیت تھی، شاہ صاحب کے زمانے میں سندھ میں فارسی اور عربی کا دور دورہ تھا اور شاہ صاحب کو سندھی کے علاوہ عربی، فارسی، ہندی اور علاقائی زبانوں میں بھی خاصی دسترس حاصل تھی اور ان زبانوں کے ادب سے بھی واقفیت تھی۔ شاہ صاحب کے مجموعہ کلام میں عربی اور فارسی کا استعمال بڑے سلیقے سے کیا گیا ہے، نوجوانی میں اس زمانے کے انقلابات نے بھی شاہ عبدللطیف کو بہت متاثر کیا۔
شاہ صاحب کے کلام میں محبت، وحدت اور اخوت کا پیغام ہے ، شاہ صاحب کامطالعہ اتنا گہرہ تھا کہ اپنے
آس پاس جو دیکھا، جو محسوس کیا اسے اپنے شعر کے قالب میں ڈھال لیا ۔
عشق مجازی کے پردے میں عشق حقیقی کی چنگاری دل میں بھڑکی شاہ صاحب کی شاعری میں والہانہ روحانی کیفیت، تصوف سے گہری شاعری میں شاہ صاحب کے مخاطب عوام ہیں ۔ شاہ صاحب نے اپنی شاعری میں انسان کو ملک حقیقی کی یاد دلائی ہے، شاہ جو رسالو میں اشعار اس طرح کہے ہوئے معلوم ہوتے ہیں کہ شاعر نے ان اشعار کو روحانی وجد کی حالت میں گایا ہے۔ شاہ صاحب کی پوری شاعری تلاش و جستجو کی شاعری ہے، شاہ صاحب نے اپنی شاعری میں علاقے کی مشہور داستانوں مومل رانو، عمر ماروی، لیلا چینسر اور سسی پنوں سے تمثیلات کے طور پر بھرپور استفادہ کیا ہے ، شاہ عبداللطیف کی شاعری کا یہ حسن و کمال ہے کہ یہ موسیقی کی عصری روایت سے مضبوطی کے ساتھ مربوط ہے اور گائے جانے کے قابل ہے۔ شاہ صاحب نے اپنی شاعری سے سندھی زبان کو ہمیشہ کے لیئے زندہ کر دیا ہے، 
شاہ عبداللطیف بھٹائی کا وصال تریسٹھ سال کی عمر میں ۱۴ صفر ۱۱۶۵ھ بمطابق ۱۱۷۶ عیسوی کو بھٹ شاہ میں ہوا ۔ اس زمانے کے حکمران غلام شاہ کلہوڑو نے شاہ صاحب کے مزار پر ایک دیدہ زیب مقبرہ تعمیر کروایا جو آج محمکہ اوقاف سندھ کے زیر اثر ہے اور سندھی تعمیرات کا ایک شاہکار ہے ۔
شاہ جو رسالو شاہ عبدالطیف بھٹائی کی صوفیانہ شاعری کا مجموعہ ہے جسے ایک روایت کے مطابق شاہ صاحب نے کراڑ جھیل کے کنارے بیٹھ کر لکھا ہے۔ شاہ جو رسالو کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سندھ کی سرزمین پر قرآن و حدیث کے بعد اسے سب سے زیادہ مانا جا تا ہے۔
شاہ عبدالطیب بھٹائی کا عرس ہر سال اسلامی سال کے دوسرے مہینے صفر کی چودہ تاریخ کو عقیدت و احتام سے منایا جاتا ہے اس موقع پر بھٹ شاہ میں مختلف پروگرام اور تقریبات کے علاوہ شاندار محفل موسیقی بھی منعقد ہوتی ہے جس میں ملک بھر سے آئے ہوئے فنکار شاہ عبدالطیف بھٹائی کے کلام کو گائیکی کے انداز میں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔


تحریر: وارث بن اعظم

Friday, 12 October 2018

Pakistan Legends Conference (PLC)



 ( پاکستان لیجنڈ کانفرنس ( سکھر یاترا


ویسے تو نوجوانوں کے لیے بہت سی جگہوں پر مختلف پروگراموں کا انعقاد ہوتا رہتا ہے پر سکھر میں بارہ، تیرہ اور چودہ اکتوبر کوہونے والی تین روزہ پاکستان لیجنڈ کانفرنس کی اپنی ہی بات تھی۔اس کانفرنس میں پاکستان بھر سے اکہتر نوجوانوں نے اکیس شہروں کی نمائندگی کی،سکھر کی آئی بی اے یونی ورسٹی سے اپنے سفر کا آغاز کرنے والی پاکستان لیجنڈ کانفرنس میں پاکستان بھر کے مشہور مقررین نے اپنی تقریروں سے ملک بھر سے آئے ہوئے نوجوانوں کا خون گرمائے رکھا۔اکیس شہروں سے آئے ہوئے اکہتر نوجوان جو اپنے اپنے شعبے میں
نمایاں کام سر انجام دے رہے ہیں ان میں ایک یہ قلم قار وارث بھی تھا۔
قصہ کچھ یوں ہے کہ سکھر میں پاکستان لیجنڈ کانفرنس کے نام سے ایک تین روزہ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں شامل ہونے کے لیے ملک بھر سے درخواستیں موصول کی گئیں اور پھر ان وصول کی گئی درخواستوں میں سے اکہتر خوش نصیب نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو کانفرنس میں شامل ہونے کے لیے منتخب کیا گیا۔
بارہ اکتوبر جمعہ سے شروع ہونے والی کانفرنس میں شرکت کے لئے یہ قلم کار جمعرات گیارہ اکتوبر کی رات بارہ بجے بذریعہ ٹرین سکھر روانہ ہوا۔ ایک قابل ذکر بات یہاں بتاتا چلوں کہ کانفرنس کے لیے جانے والا یہ قلم کار سکھر میں ہونی والی کانفرنس کے حوالے سے کسی سے کبھی باضابطہ طور پر نہیں ملا تھا صرف فون پر رابطہ تھا تو دل میں ایک عجیب سی کشمکش تھی کہ جایا جائے یا نہیں کیونکہ اس سے پہلے کبھی سکھر یاترا نصیب نہیں ہوئی تھی سو فیصلہ کرنے کی عادت ہماری یہاں بھی دوسری سوچوں پر حاوی ہوگئی اور بالآخر جانے کی ٹھان لی،تو رات ساڑھے پانچ بجے روہڑی اسٹیشن پر اترنا ہوا اب ایک اور بات کہ ہمیں یہ پتہ وہاں جا کر چلا کہ سکھر اور روہڑی دو اسٹیشن ہیں اور جس جگہ اس قلم کار کو پہنچنا ہے وہ روہڑی اسٹیشن سے چالیس منٹ کے فاصلے پر ہے ،پر جیسے تیسے کر کے اپنے مقررہ ہوٹل پر پہنچے تو وہاں اور ہی صورتحال تھی کیونکہ کانفرنس کے شرکاء کو گیارہ اکتوبر شام پانچ بجے تک ہوٹل پہنچنے کا کہا گیا تھا پر جب ہم پہنچے توصبح کے چھ بج رہے تھے اور کانفرنس کی انتظامیہ خواب خرگوش میں گم تھی ، پر ہمارے فون کرنے کے بعد ایک خوش شکل خوبصورت محترمہ نے ہمارے لیئے ہوٹل میں کمرے کاانتظام کر ہی دیا (یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ پھرتین روز تک اس قلم کار کی نظریں اس خوش شکل محترمہ پر ہی مرکوز رہیں) خیر کمرے میں پہنچے اور ابھی سوئے ہی تھے کہ کوئی تیز تیز دروازہ پیٹنے لگا،اس کی کافی محنت کے بعد دروازہ کھولا تو ہمیں سامنے کھڑی ایک محترمہ نے جھنجلا کر کہا کہ اٹھ جائیں جناب صرف آپ کا انتظار ہے باقی سب تیار ہیں ہمیں آئی بی اے یونی ورسٹی کے لئے نکلنا ہے ،خیر بھاگم بھاگ تیار ہوئے اور ناشتے کے لئے ہوٹل کے ڈائننگ ہال میں پہنچے ایک سپ چائے کا لیا اور دیگر نوجوانوں کے ساتھ آئی بی اے یونی ورسٹی روانہ ہو گئے، یہاں تک کسی سے کوئی بات نہیں ہوئی تھی صرف ان دو لڑکوں کے علاوہ جو ہمارے ساتھ کمرا شیئر کر رہے تھے،خیر یونی ورسٹی پہنچ کر سیشن کے لیے مقررہ آڈیٹوریم پہنچے جہاں پر مختلف سیشن میں مشہور مقررین نے حوصلہ افزاء تقریریں کیں اور مختلف سرگرمیاں کروائیں، اس کے بعدوہاں سے ہم سب سے پہلے سکھر بیراج گئے پھر سعد بھیلو میں کشتی رانی کی سیر کی،
ٹیم جھولے لعل کے ہمراہ
سکھر کے مشہور سات بہنوں کا مزار دیکھا، قینچی پل کی سیر بھی کی وہاں سے شاہ نجف روہڑی بھی گئے ، سادہ لفظوں میں یہ کہ ایک خوبصورت اور تھکاوٹ بھرا دن گزار کر ہوٹل پہنچے تو بتایا گیا کہ ایک اور پروگرام میں جانا ہے پر اس قلم کار سمیت دیگر نے بھی صاف انکار کردیا پر جب بتایا گیا کہ ڈی جے پارٹی ہے تو
سب تیار ہوگئے۔اس ڈی جے پارٹی سے رات تین بجے واپس ہوٹل پہنچے۔ 
دوسرے دن پھر صبح سات بجے دروازہ پیٹا گیا،سکھر ہوٹل میں ناشتہ کیا اور یہاں سے خیر پورمیرس کی جانب روانہ ہوگئے،پیر ابھن شاہ کے مزار پہنچے جہاں ایک عجیب ہی سکون اور کشش تھی۔پھر کوٹ ڈیجی قلعہ گئے اور قلعے میں ہی ایکو ساؤنڈ کی موجودگی میں خوب محفل جمائی اور پورے قلعے کی سیر کی، یہاں سے سچل سرمست کے مزار پر روانہ ہوئے جہاں پر سچل کے مزار پر موجود ملنگوں کے ساتھ خوب دھمالیں ڈالیں۔ لگ بھگ رات آٹھ بجے تک واپس سکھر ہوٹل پہنچے تو یہاں ثقافتی پروگرام کی تیاریاں مکمل تھیں،جس کے لیے پاکستان بھر سے آئے ہوئے نوجوانوں نے اپنی اپنی ثقافت کے حساب سے لباس زیب تن کئے اس پرواگرام میں بھی خوب لطف اندوز ہوئے ،یہاں بھی مقررین نے حوصلہ افزاء سیشن دئے ، آخر میں لسی کی آمد نے تو محفل میں چار چاند لگا دئے اور اس قلم
قلم کار شہید بھتو کے مزار پر
کار نے تو لسی کے بھر بھر کے دس سے بارہ گلاس پیئے۔
تیسرے اور آخری روز کا سفر صبح دس بجے لاڑکانہ روانگی سے شروع ہوا جس میں ڈیڑھ گھنٹے کا سفر طے کر کے ہم اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ گڑھی خدا بخش میں شہید بھٹو کے مزارپر پہنچے تو مزار کی خوبصورت عمارت دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ مزار میں بی بی شہید اور بھٹو شہید سمیت دیگر شہداء کی قبروب پر فاتحہ خوانی کی، بعد ازاں وہاں سے موہن جو دڑو روانہ ہوئے۔
موہن جودڑو جسے جب بھی بیس کے نوٹ پر دیکھتے تھے تو وہاں جانے کی خواہش ہوتی تھی خیر ساڑھے پانچ ہزار سال پرانی تہذیب دیکھنے کا شوق ہماراپورا ہو ہی گیا اور ہم اس تین روزہ کانفرنس کے آخری روز موہن جو دڑو پہنچ ہی گئے،میوزیم کا دورہ کیا، دڑے کی سیر کی گائیڈ سے ساری داستان سنی تصویریں بنوائیں خوب لطف اندوز ہوئے۔ یہاں سے شروع ہونا تھا اب واپسی کا سفر دو گھنٹے کا سفر طے کر کے واپس سکھر پہنچے یہاں پاکستان لیجنڈ کانفرنس کی آخری تقریب
جس میں سرٹیفیکٹس تقسیم کئے گئے میں شرکت کی۔
دوستوں کے ہمراہ واپس حیدراآباد جاتے ہوئے
پھر شروع ہوا ایک مسئلہ کہ واپس کیسے جایا جائے بس اڈے سے پتہ کروایا تو سیٹ ملنے کی امید نظر نہ آئی خیر حیدرآباد سے ہی آئے ہوئے اپنے د یگر تین ساتھیوں کے ہمراہ جن سے سکھر سے پہلے کبھی نہیں ملے تھے ریلوے اسٹیشن کی جانب روانہ ہو گئے جہاں پر پہنچ کر ہمیں کسی ٹرین میں کوئی ٹکٹ نہیں ملا تو خیر خیر کرکے فیصلہ کیا کہ بغیر ٹکٹ چلتے ہیں ہمیشہ سنتے آئے ہیں کہ ٹرین کے اندر کچھ نہ کچھ ہو جاتا ہے دیکھ لیں گے خیر خیبر میل آئی اور اس میں ایک پولیس والے سے بات کی تو اس نے سیٹیں دلوادیں پر سیٹیں کچھ یوں ملیں کہ ہم چاروں الگ ہوگئے
 تو ہم نے فیصلہ کیا کہ ٹرین کے ڈبوں کے گیٹ پر چادر بچھا کر سفر کرتے ہیں اس طرح ہمارا یہ سکھر سے حیدرآباد ساڑھے چار
گھنٹوں کا سفر بہت ہی شاندار گزرا۔
اب بات کریں پاکستان لیجنڈ کانفرنس کی تو اسے لفظوں میں بیان کرنا ممکن ہی نہیں، آسان لفظوں میں لکھوں تو گیا اکیلا تھا ساتھ دوستوں کی فوج لایا ہوں۔ 
ایک اور قابل ذکر بات اس تین روزہ سفر کی یہ کہ ہم نے ایک نعرہ سیکھا جو ہمیشہ یاد رہے گا ،کیونکہ اس سے بہت یادیں وابستہ ہیں ۔ 
لما ٹینگ ٹینگ، لما ٹانگ ٹانگ، لما ٹینگ ٹپک کے ٹھاہ۔
ٹپک کے ٹھاہ۔
ٹپک کے ٹھاہ۔


قلم کار: وارث بن اعظم

Saturday, 8 September 2018

صحافت کی ویکی پیڈیا الیاس شاکر


صحافت کی ویکی پیڈیا الیاس شاکر

اردوکا ایک روشن ستارہ، بیش بہا نامعلوم شاگردوں کا استاد، صحافت کا پیکر،جس کا قلم جب بھی لکھتا تو لکھتا صرف سچ،معلومات اتنی کے قابل سے قابل انسان اُس کے دلائل کے آگے ڈھیر،حق گوئی کا ماہر ایک روشن باب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا،حیدرآباد میں 26اکتوبر1951کو پیدا ہونے ولا الیاس جس کے بارے میں کوئی نہیں کہ سکتا تھا کہ یہ آگے چل کر ایسی گراں قدر خدمات انجام دے گا،تاریخ کے ہر اس پہلو پر نظر ڈالے گا،جسے بڑے بڑے نام والے صحافی لکھنے سے کتراتے ہیں،ہر اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرے گا جس سے کسی کی حق تلفی ہوئی ہو۔
نظم کرنے کو قوم کی تاریخ
مجھ سے کہتا تھا ایک دن کوئی
با ادب میں نے عرض کی کہ
مجھے نہیں آتی ہے مرثیہ گوئی 
قومی اخبار کے ایڈیٹر انچیف الیاس شاکر نے اپنی تحریروں کے ذریعے ملک و قوم کے ساتھ ساتھ زبان و ادب کے لیے بھی اہم خدمات انجام دی ہیں،بھاری، موٹے اور غیر ضروری الفاظ کے بغیر تحریریں سادہ اور اتنی نفیس لکھتے کے ہر پڑھنے ولا بغیر کسی دشواری کے سمجھ جائے۔تاریخ کا شاید ہی کوئی ایسا واقعہ ہو جس پر الیاس شاکر کا قلم خاموش ہو،الیاس شاکر نے ہر واقعے کے خلاف آوازبلند کی،خاص طور پر کراچی کے ہر مسائل کو اپنے قلم کے ذریعے اجاگر کیا اور حق و سچ کا علم بلند کیا۔الیاس شاکروہ شاہین ہے جس پر اقبال کا یہ شعر سو فی صد جچتا ہے کہ 
شاہین کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گرتا
پُر دم ہے اگر تُو تو نہیں خطرہ افتاد
الیاس شاکر صاحب سے کچھ عرصے قبل ایک اتفاقیہ ملاقات ہوئی اور میں نے انہیں بتایا کہ سیاست سے لگاؤ ہے اور صحافت میں دلچسپی ہے کوئی گڑ بتایئے کہ میں اپنے یہ دونوں شوق ایک ساتھ پورے کر سکوں تو انہوں نے مجھے ایک خوبصورت جملہ کہ کر بات سمیٹ دی کہ بیٹا وقت کے ساتھ چلنا سیکھو۔
تاریخ کا یہ باب تاریخی خدمات انجام دینے کے بعد جمعہ کی رات سینکڑوں آنکھوں کو اشک بار کرتے ہوئے امر ہو گیا، دعا ہے اللہ پاک الیاس شاکر صاحب کے درجات بلند کرے۔ (آمین)

تحریر: وارث بن اعظم

Tuesday, 14 August 2018

Pakistan Independence Day



ہمیں سوچنا ہوگا


ابھی تک پاؤں سے لپٹی ہیں زنجیریں آزادی کی
دن آجاتا ہے آزادی کا پر آزادی نہیں آتی

پاکستانی قوم نے اپنا بہترواں یوم آزادی خوب جوش و خروش سے منایا،گلی گلی،شہر شہر، گاؤں گاؤں تقریبات و ریلیوں کا انعقاد کیا گیا،منچلیں چودہ اگست کی رات بارہ بجتے ہی سڑکوں پر نکل گئے،حیدرآباد شہر کی بات کی جائے تو چودہ اگست کی رات جیسے ہی گھڑی کی سوئی بارہ پر آکر رکی تو شہر دھماکوں،پٹاخوں کی آواز سے گونج اٹھا، بات یہیں تک رہتی تو بہتر تھا پر فائرنگ کی آوازوں کے شروع ہوتے ہی ہم آزاد ملک کے شہری جنگی ماحول میں چلے گئے،گھروں میں بیٹھے بزرگ،اسپتالوں میں زیر علاج مریض،چھتوں پر سوئے ہوئے عوام فائرنگ کی آوازوں سے شدید خوف میں مبتلا ہو گئے اور اس آزادی کی خوشی میں کی جانے والی فائرنگ میں لطیف آباد یونٹ نمبرگیارہ کے علاقے ایوب کالونی موتی مسجد کے قریب چھبیس سالہ نوجوان اسدگھڑی کے بارہ بجتے ہی آزادی کی خوشی میں کی جانے والی فائرنگ کی زد میں آکر جاں بحق ہو گیااورکئی افراد اندھی گولی کا شکار ہوکر زخمی ہوگئے، اس کے علاوہ شہر کی مختلف شاہراہوں پر نوجوان ون وہیلنگ کرتے نظر آئے جس کے باعث بھی سینکڑوں نوجوان زخمی
ہوئے،
کون زمیدار ہے ان واقعوں کا؟
حالانکہ تیرہ اگست کو ہی حیدرآباد کی پولیس نے ایک سیکیورٹی پلان جاری کیا تھا جس کے تحت دو ہزار پولیس اہلکار، دو سو پولیس کمانڈوز سیکیورٹی پر معمور کئے گئے تھے اس کے ساتھ ساتھ شہر کے مختلف علاقوں میں رینجرز کی پینتیس اور پولیس کی بتیس چوکیان قائم کی گئی تھیں پھر کیوں یہ اندھے قاتل اسلحہ لے کر دندناتے رہے اورفائرنگ کی آوازوں سے شہر گونجتا رہا۔
کیا خوشیاں اس طرح منائی جاتی ہیں، کیادنیا میں صرف اکلوتا ملک پاکستان ہی آزاد ہوا ہے،کیا اسپاکستان کے لئے ہمارے سینکڑوں گمنام بزرگوں، نوجوانوں، خواتین، مردوں،بچوں نے اپنی جانوں کے نذرانے دئے تھے۔ ہمیں سوچنا ہوگا ۔۔۔۔۔۔

Monday, 30 April 2018

صائمہ جروار لاڑکانہ کی زینب ۔۔۔۔ #SaimaJarwar


صائمہ جروار لاڑکانہ کی زینب ۔۔۔۔


صائمہ لاڑکانہ کی ایک ننھی کلی جو مرجھا گئی ، جسے سنگسار کر نے کے بعد نا حق قتل کر دیا گیا ، کوئی نہیں بولتا اُس کے حق میں ، کوئی نہیں لکھتا
صائمہ کے درندوں جیسے قاتلوں کے خلاف ، نہیں لیتا کوئی سوموٹو ۔۔۔
ارے ظالمو صائمہ جروارکو بھی شہید کہ دو ،دے دو اُس کی ماں کو دلاسے کے جس طرح تم نے زینب کی ماں
کو دلاسے دیئے تھے کہ زینب شہید ہوئی ہے، کر لو جھوٹے وعدے ، آخر کب تک جھوٹ کی لاٹھی پکڑے رکھو گے، کیا قصور تھا اس ننھی پھول جیسی کلی کا کیا قصور تھا اُس کے گھر والوں کا صرف یہ کہ وہ ایک ایسے ملک کے رہائشی ہیں جہاں اس سے پہلے بھی نہ جانے کتنی صائمہ قتل کر دی گئیں ، نہ جانے کتنی صائمہ سنگسار کی گئیں ،کبھی زینب کے روپ میں کیا تم بھول گئے عمان فاطمہ کو، کیا تمھیں نہیں یاد فوزیہ ، کیا تمھیں نہیں یاداسمہ، تمھیں تو نور فاطمہ اور لائبہ بھی یاد نہیں ہونگی جنہیں سنگسار کرکے صائمہ ہی کی طرح بے دردی سے قتل کر دیا گیا، پچھلے ایک سال کے دوران اس طرح کے بارہ واقعات ہوئے ، ایک ہی عمر کی لڑکیوں کو نشانہ بنایا گیا، کیا کیا گیا اُن واقعات کا کچھ نہیں ۔۔۔ کسی نے بھی کیا خوب کہا ہے یہاں سب بکتا ہے تم دام تو بولو ۔۔
میں پوچھتا ہوں آج بے نظیر کے بلاول سے کہ زینب کے قتل کو پنجاب حکومت کے منہ پر طمانچہ کہا تھا ، صائمہ کا طمانچہ کس کے منہ پر مارو گے،بلاول صاحب صائمہ کا تو تعلق بھی لاڑکانہ سے ہے ، بے نظیر کے لاڑکانہ سے۔۔
صائمہ ایک پھول جیسی بچی نجانے کتنے خواب تھے اُس کی آنکھوں میں کیا کیا سوچا ہو گا اُس کے ماں باپ نے اُس کے لئے، بچے گھر کی رونق ہوتے ہیں ، گھر مہکتا ہے بچوں سے، نہ جانے کون سے انسان کی شکل میں بھیڑئیے ہیں ، کیسی حوس ہے یہ جو ان معصوم پھولوں کو کچل رہی ہے، ننھی صائمہ کے قتل کے دو زمیدار ہیں ایک وہ ظالم بھیڑئیے جنہوں نے صائمہ کو سنگسار کرکے ناحق قتل کیا دوسرے حکمران جو صائمہ کو سنگسار ہونے سے نہ روک سکے، پاکستان جو اسلامی نظرئیے کی بنیاد پر بنا تھا، کہاں گیا تمھارا وہ نظریہ، یاد نہیں تمہیں کہ حضرت عمر کے دل کو خوف اُن کا راتوں کو اس ڈر سے گھومنا کہ کوئی بھوکا نہ سوجائے، کہیں کوئی جانور ٹھوکر لگنے سے بھی زخمی نہ ہو جائے، سوال ہو گا تم سے بھی ایک ایک صائمہ کا کہ کیوں نہیں بچا سکے ، ایک ایک کا جواب دینا ہوگا،۔ خدارا اب بھی وقت ہے جاگ جاؤ ، کر لو ٹھوس اقدامات بنا دو کسی قاتل کو پکڑ کر عبرت کا نشان ، دے دو پھانسی اُسے بیچ چوراہے پر ، یہ صائمہ بھی کسی کی بیٹی ہے کسی کا لختِ جگر ہے اس صائمہ کو تو نہ بچاسکے اور نہ جانے کتنی صائمہ ایسی ہیں جنہیں یہ حوس کے پجاری نشانہ بنانا چاہتے ہیں ، بچالو اُنھیں ۔۔۔۔خدارابچالو ۔۔۔۔

Friday, 27 April 2018

حیدرآباد میں کھلے عام فروخت ہوتا مضر صحت آئل



حیدرآباد میں کھلے عام فروخت ہوتا مضر صحت آئل


پاکستان میں اس وقت کئی اقسام کی بیماریوں کا راج ہے ، جس میں بلڈ پریشر، کولیسٹرول، پھیپھڑوں کی بیماری، جگر کی بیماری اور دیگی کئی اقسام کی بیماریا ں ہیں جنہوں نے پاکستانیوں کا جینا دو بھر کیا ہوا ہے، اگر ان بیماریوں کے بارے میں کسی ڈاکٹر سے صلاح کی جائے تو وہ سب سے پہلے ان
بیماریوں کا سبب مضرِ صحت اشیاء اور باہر کے آلودہ کھانوں کو قرار دیتے ہیں ، اور لوگوں کو زیادہ سے زیادہ گھر پر کھانا کھانے کا مشورہ دیتے ہیں ،لیکن جب ان مشوروں پر عمل کرنے کے بعد بھی انسان کی زندگی میں بہتری نہیںآتی تو وہ سوچ میں پڑ جاتا ہے کے آخر کیا وجہ ہے، جب وہ اس امر پر سوچ و بچار کرتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ مسئلا صرفباہر کے کھانوں میں ہی نہیں ہے بلکہ گھر کے کھانے کی بھی صورتحال بھی باہر جیسی ہی ہے، کیونکہ وہ سبزی ، دال، چاول ہر چیز کواچھی طرح دھو کر استعمال کرتا ہے ، لیکن جب بات کوکنگ آئل کی آتی ہے تو وہ بغیر کچھ سوچے ایک اچھی اور نامور کمپنی کا کوکنگ آئل استعمال کر لیتا ہے، اور کچھ جعلسازوں اور ناجائز منافع خوروں کی وجہ سے بیماریوں کی طرف کھنچتا چلا آتا ہے۔ حیدرآباد پاکستان کا چھٹا اور صوبہ سندھ کا دوسرا بڑا شہر ہے،حیدرآباد جیسے شہر میں اس وقت کھلے تیل کا کام عروج پر ہے اور اس وقت حیدرآباد میں کھلا تیل بنانے کے کارخانوں کی تعداد 100 سے زیادہ ہے جس میں سے زیادہ تر کارخانے شہر کے پوشعلاقوں میں واقع ہیں جن میں ٹاور مارکیٹ، ہیرآباد، فقیر کا پڑ، پریٹ آباد اور ٹنڈو ولی محمد قابل ذکر ہیں، اور ان کارخانوں سے یہ مضر صحت آئل تقریباََ پورے سندہ کو سپلائی ہوتا ہے اور یہ کارخانے مشہو ر کمپنیز کا نام اور اُن کمپنیز کے مونوگرام آئل کے ڈبوں میں چھپواکر پورے سندھ میں سپلائی کرتے ہیں اور اس آئل کی فی کلو قیمت 160سے200 روپے تک ہوتی ہے، ملنے والی معلومات کے مطابق یہ کارخانے آئل بنانے کے لئے جانوروں کی آنتیں، اوجھڑی، مرغیوں کی ٹانگیں، اور جانوروں کی ہڈیوں کا استعمال کرتے ہیں، اس دوران جب ایک کارخانے میں کام کرنے
والے مزدور سے پوچھاگیا کہ کیا کبھی کوئی ویجیلنس ٹیم یا پولیس یہاں چھاپہ مارتی ہے تو اُس نے بڑے اطمینان سے جواب دیا کہ مالک لاکھوں روپے ماہانہ اوپر پہنچاتا ہے تو کونسی ٹیم کونسا چھاپہ، کافی تگ و دو کے بعد جب ایک فرض شناس پولیس والے سے رابطہ کیا تو اُس نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ بات بلکل صحیح ہے کہ اس وقت حیدرآباد میں مضر صحت آئل کے کارخانوں کی تعداد سو سے زیادہ ہے اور ہر کارخانے کا مالک اپنی حدود میں آنے والے تھانے کو ماہانہ پیسے پہنچاتا ہے ، جو نیچے سے لے کراعلی پولیس حکام تک پہنچتے ہیں۔ جب عام شہریوں سے اس کھلے آئل کے بارے میں دریافت کیا گیا تو اُن کا کہنا تھا کہ کافی لوگوں نے اس قسم کے کارخانے گھروں میں چھپا کر لگا رکھے ہیں جن میں بیمار
جانوروں کے اعضاء سے آئل تیار کیا جاتا ہے اور اسے ٹین کے ڈبوں میں ایک مشہور کمپنی کا مونو گرام لگا کر مارکیٹ میں پہنچا دیا جاتا ہے ، اور لوگوں کیلئے یہ معلوم کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کیا اصلی ہی اورکیا نقلی۔

ان منافع خوروں کی ذرا سی لالچ نجانے کتنی معصوم زندگیوں کو تباہ کر دیتیں ہیں اور اس خراب اور مضر صحت آئل کی وجہ سے انسان بے شمار جان لیوا بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں جن میں ہیپاٹائیٹس سی، ہیپاٹائیٹس بی، پھیپھڑوں کی بیماری اور نجانے کتنی اوربیماریاں شامل ہیں۔