Thursday, 11 April 2019

امتحانات اور بوٹی مافیا


امتحانات اور بوٹی مافیا

امتحانات میں نقل جسے کاپی کلچرکے حرف عام سے پکارا جاتا ہے، کاپی کوئی کلچر نہیں، کیونکہ کلچر عظیم چیز ہوتی ہے یہ ایک کالا دھبہ ہے، جو ہماری نسلوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے، اسے پورے سماج نے قبول کرلیا ہے، والدین بھی اپنے بچوں کو اس سوچ کے ساتھ کاپی کروانے میں خوشی محسوس کرتے ہیں کہ بچوں کے گریڈ اچھے آئیں گے، کسی دانا نے بھی کیا خوب کہا ہے ،کسی قوم کو تباہ کرنے کے لئے ایٹم بم یا میزائیل کی ضرورت نہیں، اس ملک کی تعلیم کے معیار کوگرادیا جائے اور امتحانات میں نقل کی اجازت دے دی جائے، قوم از خود تباہ ہوجائے گی کیونکہ تعلیمی معیار کم ہونے کی وجہ سے مریض ڈاکٹر کے ہاتھوں مرجائے گا، عمارتیں انجینئرز کے ہاتھوں گرجائیں گی، معیشت اکنامسٹ کے ہاتھوں تباہ ہوجائے
گی اور انصاف ججز کے ہاتھوں ناپید ہوجائے گا۔
امتحان مطلب اپنے آپ کو منوانا ، کامیاب ہونا، اگر اس کامیابی اور خود کو منوانے میں غلط راہ کا انتخاب کیا جائے تو وہ دوسروں کے لیے تو بہتر ہوگا پر خود کے ضمیر اور قابلیت پر ہمیشہ کے لئے ایک سوالیہ نشان بن جائے گا، یہی کچھ صورتحال سندھ بھر میں نویں دسویں جماعت کے سالانہ امتحانات میں سامنے آرہی ہے، صوبہ بھر میں جاری نویں دسویں کے امتحانات میں تمام تردعوؤں اور انتظامات کے باوجود پرچے وقت سے قبل امتحانی مراکز سے باہر آئے جو کہ واٹس ایپ گروپس میں آسانی سے میسر رہے، تعلیمی حکام اور انتظامیہ نقل کی روک تھام میں مکمل طور پر ناکام رہی، طلباء موبائل فونزسمیت نقل کے دیگر ذرائع سے پرچے حل کرتے رہے، جبکہ سندھ کے کچھ شہروں میں متعلقہ پرچے کی جگہ دوسرے روز کا پرچہ پہنچانے کی خبریں بھی میڈیا کی زینت بنیں، امتحانی مراکز کی حدود میں غیر متعلقہ افراد کی آمد پر مکمل پابندی کے باوجود بوٹی مافیا پولیس کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں کامیاب رہی، نقل روکنے اور امتحانات کا جائزہ لینے کے لئے محکمہ تعلیم کی جانب سے مختلف ٹیمیں امتحانی مراکز کا دورہ بھی کرتی رہیں اور یہ دورے محض نمائشی ہی ثابت ہوئے ، دورے کے دوران امتحانی مراکز میں سب اچھا دکھایا گیا، نقل کے متعلق خبروں کے میڈیا کی زینت بننے پر وزیر اعلی سندھ بھی جاگے اور سکھر اور حیدرآباد کے کنٹرولر امتحانات کو معطل کرتے ہوئے ایک پیغام دیا کہ اگر نقل ہوگی تو متعلقہ عملہ اور ذمیداران معطل ہوں گے ، لیکن وزیر اعلی کا یہ پیغام چوبیس گھنٹے تک بھی نہیں چل سکا اور حیدرآباد کے کنٹرولر امتحانات اسٹے آرڈر لا کر دوبارہ اپنی نشست پر
براجمان ہوگئے۔
ہمارے سماج میں قابلیت سے زیادہ گریڈ کو اہمیت دی جاتی ہے اور اسی وجہ سے ہر بچہ حتٰی کہ اس کے والدین کی بھی خواہش ہوتی ہے کہ گریڈ بہتر سے بہتر بنے اور اس ہی سوچ کی بناء پر وہ ہر حد تک یہاں تک کہ رشوت کا سہارہ لینے پر بھی تیار ہوجاتے ہیں، ہمارے معاشرے کا بچہ کچھ سیکھنے کی لگن سے نہیں پڑھتا، بلکہ نوکری کے حصول کے لئے پڑھتا ہے، بچہ کی شروع میں ہی اس طرح سے پرورش کی جاتی ہے کہ اس کا حصول تعلیم نہیں نوکری بن جاتا ہے اور شاید ہماری قوم بھول گئی ہے کہ جب تعلیم کا حصول نوکری ہوگا تو نوکر ہی پیدا ہوں گے لیڈر نہیں۔ 
امتحان کا مقصد طالب علم کی قابلیت کو جانچنا ہوتا ہے اور اس میں نقل کے ذریعے ایک نااہل، کام چور اور کاہل شخص ایک محنتی پر ترجیح حاصل کرکے اُسے اور خود کوبھی دھوکا دیتا ہے مگر یاد رکھنا چاہیئے دھوکے میں بڑی جان ہوتی ہے یہ کبھی نہیں مرتا اور گھوم کر اس فرد کے پاس دوبارہ پہنچ جاتا ہے کیونکہ اسے اپنے ٹھکانے سے بہت محبت ہوتی ہے ، دھوکے کے حوالے سے نبی پاک ﷺ کا فرمان ہے کہ جو شخص ہم کو دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
پاکستان کے تعلیمی نظام میں موجود خامیوں سے ہم سب واقف ہیں امتحانات شروع ہونے سے قبل حل شدہ پرچہ جات کی خرید و فروخت بھی اپنے بام عروج پر پہنچ جاتی ہے مذکورہ پرچہ جات ایک چھوٹی کتاب کی شکل میں دستیاب ہوتے ہیں جو کہ ایک شاگرد کی عام سی جیب میں ہی سما جاتا ہے، اس عمل پر بھی کوئی توجہ دینے کو تیار نہیں ہے ، امتحانات ہمارے معاشرے میں خود کو منوانا یا اپنی قابلیت جانچنے کی جگہ ایک کاروبار کی شکل اختیار کرگئے ہیں اور یہ عمل ہمارے حکمرانوں پر بھی سوالیہ نشان ہے، ہمارے مستقبل کے معمار جو نقل کے دلدل میں گرتے جارہے ہیں اس کی ذمیداری حکومت ، اساتذہ اور بچوں کے والدین پر بھی عائد ہوتی ہے کیونکہ جس عمارت کی بنیاد ہی کچی ہوگی تو اس نے آگے جا کر گرنا ہی ہے، مستقبل کے معماروں کو اس دلدل سے بچانے کے لئے شعور کے ساتھ ساتھ ٹھوس عملی اقدامات کی بھی اشد ضروت ہے۔ 

از قلم (وارث بن اعظم)

Tuesday, 9 April 2019

#TharNeedsUniversity


ایک جیالے کا اپنے قائد کے نام پیغام


مکرمی! اکیسویں صدی کے جدید دور میں بھی تھر پارکر کے صحرا میں تواتر سے بچے غذائی قلت کے باعث موت کی آغوش میں جارہے ہیں، ان اموات کو غذائی قلت سے جوڑ کر اصل مسئلے سے توجہ ہتائی جارہی ہے، تھر پارکر میں کم عمری کی شادی، زیادہ بچوں کی پیدائش، ستر، اسی سال کی عمر تک میں ماں بننا عام سی بات ہے، ان اموات پر قابو پانے کے لئے سب سے بڑی جو ضرورت ہے وہ عوام میں شعور اجاگر کرنا ہے، تھرپارکر ضلع سمیت اس کے گردونواح میں کوئی یونیورسٹی نہیں ہے، تھر کے بچے آج بھی پیلے اسکول میں تعلیم حاصل کرہے ہیں، حال ہی میں تھر کے کالے سونے سے پاکستان بھر کو روشن کرنے کی نوید سنائی گئی ہے ، جس کا باقائدہ افتتاح کرنے آپ تھر کے صحرا جائیں گے، بلاول بھٹو صاحب مجھے یاد ہے جب دیوالی کی خوشیاں منانے آپ نے عمر کوٹ اور الیکشن کے دنوں میں تھر کا دورہ کیا تھا تو تھریوں کا ایک سمندر امڈ آیا تھا، چیئرمین صاحب تھر میں شعور پیدا کرنے کے لئے آپ کو ہی عملی اقدام اٹھانا ہوں گے، تھریوں کو آپ سے بہت امیدیں وابستہ ہیں، تھر کو امداد کی نہیں یونیورسٹی کی ضرورت ہے، اسکولوں کی ضرورت ہے، میڈیکل، سائنس ، انجینئرنگ ، آرٹس کالجوں کی ضرورت ہے ، کیونکہ چیئرمین صاحب آکسفورڈ سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ کو لازمی اندازہ ہوگا کہ کسی قوم کی تقدیر بدلنے کے لئے امداد نہیں شعور کی ضرورت ہوتی ہے۔



(وارث بن اعظم، حیدرآباد)

Monday, 4 March 2019

Tharparkar Situation


تھر پارکر میں موت کا جاری رقص 


قدرتی کوئلے سے مالا مال ضلع تھر پارکر کے کوئلے سے پاکستان بھر میں روشنیوں کی نوید سنائی جارہی تو دوسری جانب تھر میں موت کا رقص تیز سے تیز تر ہوتا جارہا ہے، تھرپارکر میں موت بچوں کے پیچھے ہاتھ دھو کرپڑگئی ہے اور بھوک تواتر سے بچوں کو نگل رہی ہے اور بچوں کی ہلا کتوں کا سلسلہ تھمنے کانام نہیں لے رہا ہے ، میڈیا رپورٹس کے مطابق تھرپارکر کے ضلعی ہیڈ کوارٹر مٹھی کے سول اسپتال میں غذائی قلت کے باعث روزکی بنیاد پرننھے پھول موت کی آغوش میں جارہے ہیں ، صوبائی حکومت کی جانب سے تھر میں گندم کی تقسیم سمیت دیگر منصوبے جاری ہیں مگر ان کے باوجود بھی کوئی ٹھوس منصوبہ بندی نہ ہونے کے باعث اموات کا سلسلہ رک نہ سکا ہے اور رواں سال کے شروع کے دو ماہ میں60 بچے جاں بحق
ہوچکے ہیں، جبکہ مٹھی کے سول اسپتال میں پچاس سے زائد بچے زندہ رہنے کیلئے موت سے لڑ رہے ہیں ۔ گذشتہ سال 2018 میں بھی 647 بچے موت کی آغوش میں چلے گئے تھے ۔ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے بھی اپنے دور میں تھر کے حوالے سے متعدد سماعتیں کیں، اس دوران وہ ایک روزہ دورے پر تھر بھی پہنچے جہاں وزیر اعلی سندھ کے ہمراہ انہوں نے مٹھی ، اسلام کوٹ کے اسپتالوں ، اینگرو پلانٹ سمیت دیگر نواحی شہروں کا دورہ کیا اور آر او پلانٹس کا بھی جائزہ لیا تھا، سندھ حکومت کے وزیروں کے مطابق تھر کا آراو پلانٹ ایشیاء کا سب سے بڑا پلانٹ ہے ۔ آر او پلانٹ کے دورے کے موقع پر سابقہ چیف جسٹس کو اس پر بریفنگ بھی دی گئی تھی اور انہوں نے خود پلانٹ کا پانی بھی پیا تھا جس کی خبریں اور تصویریں پاکستان کے بڑے روزناموں کے فرنٹ پیج پر شائع ہوئی تھیں ، جبکہ چیف جسٹس کی جانب سے دورے کے موقع پراسپتالوں میں مصنوعی مریض بٹھا کر سب اچھا دکھانے کی خبریں بھی میڈیا کی زینت بنی تھیں اس کے باوجود بھی اعلی حکام و وفاقی حکومت کی جانب سے تھر پارکر کی صورتحال کو بہتر کرنے کے لئے کوئی ٹھوس منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔ رواں سیزن میں بھی جہاں پورے ملک میں بارشوں کا سلسلہ جاری ہے وہیں تھر کا صحرا بارش کی بوند بوند کو ترس رہا ہے،
پورے سیزن میں ایک بار ہلکی فوار کے علاوہ بادلوں نے تھر میں برسنا مناشب نہیں سمجھا، تھر کے زیادہ تر مکینوں کا ذریعہ معاش مویشی ہیں، جبکہ پانی کی قلت اور چارے کی کمی کے باعث مویشی بھی تیزی سے ہلاک ہورہے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ تھر کے نایاب موروں میں بھی پر اسرار بیماری پھیلی ہوئی ہے اور محکمہ لائیو اسٹاک کی جاب سے ان کی لئے بھی کوئی مؤثر انتظام نہیں کیا گیا ہے جس کی وجہ سے کچھ عرصے قبل تک تھر کے ہر گلی کوچوں میں گھومنے والے موروں کی نسل اب کم ہوکر چند علاقوں تک رہ گئی ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ تھرپارکر پاکستان کا ایک ایسا ضلع ہے جہاں کرائم ریٹ نہ ہونے کے برابر ہے ، تھانوں میں سالہا سال تک کوئی مقدمہ درج نہیں ہوتا، اگر کوئی جرائم یا جھگڑا ہو جائے تو اسے برادری کی بنیاد پر از خود حل کر لیا
جاتا ہے ۔ 

یاد رہے وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے الیکشن سے قبل اپنی انتخابی جلسوں کی تقاریر میں بھی تھر میں اموات کا ذکر ہوتا تھا، جبکہ پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے موجودہ وزیر خارجہ کا بھی سندھ کے ضلع عمر کوٹ اور تھرپارکر سے گہرا تعلق ہے اور وہ تواتر سے یہاں کے دورے بھی کرتے ہیں ، جبکہ پاکستان تحریک انصاف اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) جس کی قیادت پیر صاحب پاگارہ کررہے ہیں نے مشترکہ طور پر الیکشن دو ہزار اٹھارہ سے تین روز قبل عمر کوٹ کی تاریخ کا ایک بڑا جلسہ کیا تھا جس میں تھر پارکر کی صورتحال کا بھی ذکر کیا گیا تھا پر اس کے باوجود بھی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت تھرپارکر کی موجودہ صورتحال پر کوئی قدم اٹھانے کو تیار نہیں ہے، پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی قیادت کی جانب سے وزیراعظم کے آٹھ مارچ کو دورہ تھر اور اچھرو تھر میں جلسہ کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے، امید کرتے ہیں وزیراعظم صاحب اپنے اس دورے میں لال قالین کے استعمال سے گریز کرتے ہوئے تھری باشندوں کی سہی معنی میں داد رسی کریں گے۔

Tuesday, 5 February 2019

اور ہمیں پھر کشمیر یاد آیا تھا


پانچ فروری یوم یکجہتی کشمیر پاکستان بھر میں بھرپور جوش و خروش سے منایا گیا ملک بھر میں جگہ جگہ احتجاج، ریلیاں، جلوس، مظاہرے، سیمینار، کانفرنسیں منعقدہ ہوئیں، پڑوسی ملک کے جھنڈے نذر آتش کئے گئے، بچوں کو کفن پہنا کر ریلیوں میں لایا گیا، ملک کی زمینوں کو بھارت کے ترنگے سے رنگا گیا، پھر اس پر جوتے رکھے گئے، گاڑیاں گزاری گئیں، تھوکا گیا، جذباتی نعرے لگائے گئے، سیلفیاں بنوائی گئیں، اپلوڈ کی گئیں، پھر کیا ہوا ؟ دن ختم ہوا اور ہم بھول گئے کشمیر کو،اب ایک سال بعد دیکھیں گے جب پانچ فروری
آئے گا تب تک کے لئے؟
کشمیر کیا ہے؟ کشمیر ڈے پر چھٹی کے باعث خلاف معمول گھر کے باہر کھڑا تھا ساتھ ہی پتھارے پر کچھ محلے کے افراد بیٹھے ہوئے تھے جن میں دو نوجوان ایک پکی عمر جبکہ دو بزرگ تھے وہ کشمیر کے حوالے سے بحث و مباحثے میں مصروف تھے تو نہ چاہتے ہوئے بھی قدم ان کی جانب بڑھ گئے، سلام دعا کے بغیر بحث میں شامل ہوتے ہوئے میں نے یکدم ان سے سوال کیا کہ کشمیر کیا ہے تو ان افراد میں شامل ایک نواجوان بلکل جھگڑنے والے انداز میں بولے کشمیر ہماری شہ رگ ہے، ان کا جملہ ختم ہوا تو دوسرا نوجوان بولا کشمیر ہماری جان ہے، ان صاحب کے رکتے ہی ایک ادھیڑ عمر بزرگ جو ستر کی عمر سے زیادہ ہی لگ رہے تھے لپک کر بولے کشمیر کے لئے ہم اپنی جان دینے کو بھی تیار ہیں، تواتر سے جذباتی جوابات سن کر میں نے خیر اس میں ہی سمجھی کہ ان کی باتوں پر سر ہلاتے ہوئے آگے بڑھا جائے، اس میں کوئی شک نہیں کہ جواب دینے والے ان تمام افراد کا جذبہ قابل دید تھا، ان ہی سوچوں میں مگن چلتے چلتے اپنے گھر سے کچھ فاصلے پر موجود پریس کلب پہنچا تو سامنے مختلف سیاسی، سماجی، دینی، کاروباری اور دیگر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنے سامنے پایا، وہ ٹولیوں کی شکل میں بینرز ، پاکستانی پرچم سمیت مختلف سیاسی پارٹیوں کے جھنڈے پکڑے کھڑے تھے، قریب جاکر معلوم کیا تو پتا چلا کہ وہ پریس کلب پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے جمع ہوئے ہیں اورکوریج کے لئے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں، بات چل ہی رہی تھی کہ ایک نجی چینل کے مقامی صحافی کی تیز آواز کی جانب توجہ مرکوز ہوگئی، وہ محترم فرمارہے تھے کہ پانچ منٹ ہیں سب کے پاس جمع ہوتے جاؤ، کوریج کروالو، اس آواز کی گونج کے ساتھ ہی ایک افراتفری کا ماحول پیدا ہوگیا اور موجود افراد کچھ کچھ فاصلے پر ٹولیاں بنا کر جھنڈے اور بینر کھول کر کھڑے ہوگئے، فوٹوگرافرز اور کیمرا مین ایک ٹولے کی کوریج کرتے پھر وہ چلا جاتا پھر دوسرا اس کی جگہ لیتا اس کی کوریج ہوتی یوں یہ قصہ چلا، سورج ڈھلتے ہی کچھ افراد نے شمعیں روشن کیں جس کے بعد سب چلتے بنے،یوں کشمیر ڈے ختم ہوگیا ۔ ذہن میں تواتر سے سوالوں کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوگیا کہ کیا یہی حق تھا ہمارا کشمیریوں کے لئے، کیا ایک دن کا احتجاج کافی ہے، کیا سرکاری چھٹی کرنا، سیمینار منعقد کرنا، چینلوں پر ایک روز کے لئے کشمیر کی بات کرنا پھر بھول جانا کیا بس یہ کشمیر ہے ؟ کیا اس سے ادا کردیا ہم نے بندوقوں سے چھلنی ہوکر موت کی وادیوں میں جانے والے کشمیریوں کا حق؟ کیاہوگیا حق ادا برہان وانی کی شہادت کا ؟ کیا نہتے کشمیریوں پر بیلٹ گنوں کے استعمال کو ہم بھول گئے ہیں؟ کیا مل گئی کشمیر کو آزادی؟ ہمیں سوچنا ہوگا ، کشمیر میں بہتے خون کا ہمیں سوچنا ہوگا ۔ 

آج وہ کشمیر ہے کہ محکوم و مجبور و فقیر
کل جسے اہل نظر کہتے تھے ایران صغیر

بھارت اپنے تماتر مظالم اور ریاستی جبر کے باوجود کشمیریوں کی تحریک آزادی کو ختم نہیں کر سکا، کشمیریوں کا یقین ہے کہ شکست غاصب بھارت اور آزادی مظلوم کشمیریوں کا مقدر بنے گی۔ حکومت پاکستان کو بھی چاہیے کہ وہ زبانی دعوؤں کے بجائے کشمیر کی آزادی کے لیے سیاسی اور سفارتی سطح پر مضبوط اور منظم آواز بلند کرنے کے ساتھ ساتھ عملی طور پر بھی اقدامات کرے۔


تحریر: وارث بن اعظم

Tuesday, 23 October 2018

بھٹ جا بھٹائی



ہالا میں پیدا ہونے والا عبدالطیف جسے دنیا شاہ عبدالطیف بھٹائی کے نام سے جانتی ہے دنیا سے رخصت ہونے کے 275 سال بعد بھی اپنے کلام کے ذریعے زندہ ہے، آج بھی بھٹ شاہ میں روزانہ کی بنیاد پرشاہ کے سینکڑوں مرید شاہ کے مزار پر حاضری دینے کے بعد شاہ کے راگی فقیروں کے کلام پر جھومتے ہیں۔ 
بدھ سے سندھ کے عظیم صوفی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی کا تین روزہ 275 واں سالانہ عرس شایان شان طریقے سے منایا جارہا ہے، اس ضمن میں سندھ حکومت کی جانب سے عرس کے پہلے روز عام تعطیل کا اعلان بھی کیا گیا ہے، شاہ عبداللطیف بھٹائی ۱۱۰۱ھ بمطابق ۱۶۸۹ء کو ضلع حیدرآباد کے تعلقہ ہالا میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد کا نام سید حبیب تھا ۔

آپ کے والد علاقہ میں تقوی اور پرہیز گاری کے لئے مشہور تھے اور قریب و جوار کے علاقوں میں بڑی عزت و احترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے ۔شاہ عبدالطیف کی والدہ کا تعلق بھی سادات خاندان کے علمی گھرانے سے تھا ، پانچ سال کی عمر میں آپ کو آخوند نور محمد کی علمی درسگاہ میں داخل کیا گیا ، روایت ہے کہ شاہ عبدالطیف نے الف سے آگے پڑھنے سے انکار کردیا تھا لیکن شاہ صاحب کے کلام میں انکی علمی کوششوں کا عمل دخل نمایاں طور پر محسوس ہوتا ہے ۔ شاہ صاحب کے مجموعہ کلام شاہ جو رسالو کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاہ صاحب کو علم سے بخوبی واقفیت تھی، شاہ صاحب کے زمانے میں سندھ میں فارسی اور عربی کا دور دورہ تھا اور شاہ صاحب کو سندھی کے علاوہ عربی، فارسی، ہندی اور علاقائی زبانوں میں بھی خاصی دسترس حاصل تھی اور ان زبانوں کے ادب سے بھی واقفیت تھی۔ شاہ صاحب کے مجموعہ کلام میں عربی اور فارسی کا استعمال بڑے سلیقے سے کیا گیا ہے، نوجوانی میں اس زمانے کے انقلابات نے بھی شاہ عبدللطیف کو بہت متاثر کیا۔
شاہ صاحب کے کلام میں محبت، وحدت اور اخوت کا پیغام ہے ، شاہ صاحب کامطالعہ اتنا گہرہ تھا کہ اپنے
آس پاس جو دیکھا، جو محسوس کیا اسے اپنے شعر کے قالب میں ڈھال لیا ۔
عشق مجازی کے پردے میں عشق حقیقی کی چنگاری دل میں بھڑکی شاہ صاحب کی شاعری میں والہانہ روحانی کیفیت، تصوف سے گہری شاعری میں شاہ صاحب کے مخاطب عوام ہیں ۔ شاہ صاحب نے اپنی شاعری میں انسان کو ملک حقیقی کی یاد دلائی ہے، شاہ جو رسالو میں اشعار اس طرح کہے ہوئے معلوم ہوتے ہیں کہ شاعر نے ان اشعار کو روحانی وجد کی حالت میں گایا ہے۔ شاہ صاحب کی پوری شاعری تلاش و جستجو کی شاعری ہے، شاہ صاحب نے اپنی شاعری میں علاقے کی مشہور داستانوں مومل رانو، عمر ماروی، لیلا چینسر اور سسی پنوں سے تمثیلات کے طور پر بھرپور استفادہ کیا ہے ، شاہ عبداللطیف کی شاعری کا یہ حسن و کمال ہے کہ یہ موسیقی کی عصری روایت سے مضبوطی کے ساتھ مربوط ہے اور گائے جانے کے قابل ہے۔ شاہ صاحب نے اپنی شاعری سے سندھی زبان کو ہمیشہ کے لیئے زندہ کر دیا ہے، 
شاہ عبداللطیف بھٹائی کا وصال تریسٹھ سال کی عمر میں ۱۴ صفر ۱۱۶۵ھ بمطابق ۱۱۷۶ عیسوی کو بھٹ شاہ میں ہوا ۔ اس زمانے کے حکمران غلام شاہ کلہوڑو نے شاہ صاحب کے مزار پر ایک دیدہ زیب مقبرہ تعمیر کروایا جو آج محمکہ اوقاف سندھ کے زیر اثر ہے اور سندھی تعمیرات کا ایک شاہکار ہے ۔
شاہ جو رسالو شاہ عبدالطیف بھٹائی کی صوفیانہ شاعری کا مجموعہ ہے جسے ایک روایت کے مطابق شاہ صاحب نے کراڑ جھیل کے کنارے بیٹھ کر لکھا ہے۔ شاہ جو رسالو کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سندھ کی سرزمین پر قرآن و حدیث کے بعد اسے سب سے زیادہ مانا جا تا ہے۔
شاہ عبدالطیب بھٹائی کا عرس ہر سال اسلامی سال کے دوسرے مہینے صفر کی چودہ تاریخ کو عقیدت و احتام سے منایا جاتا ہے اس موقع پر بھٹ شاہ میں مختلف پروگرام اور تقریبات کے علاوہ شاندار محفل موسیقی بھی منعقد ہوتی ہے جس میں ملک بھر سے آئے ہوئے فنکار شاہ عبدالطیف بھٹائی کے کلام کو گائیکی کے انداز میں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔


تحریر: وارث بن اعظم

Friday, 12 October 2018

Pakistan Legends Conference (PLC)



 ( پاکستان لیجنڈ کانفرنس ( سکھر یاترا


ویسے تو نوجوانوں کے لیے بہت سی جگہوں پر مختلف پروگراموں کا انعقاد ہوتا رہتا ہے پر سکھر میں بارہ، تیرہ اور چودہ اکتوبر کوہونے والی تین روزہ پاکستان لیجنڈ کانفرنس کی اپنی ہی بات تھی۔اس کانفرنس میں پاکستان بھر سے اکہتر نوجوانوں نے اکیس شہروں کی نمائندگی کی،سکھر کی آئی بی اے یونی ورسٹی سے اپنے سفر کا آغاز کرنے والی پاکستان لیجنڈ کانفرنس میں پاکستان بھر کے مشہور مقررین نے اپنی تقریروں سے ملک بھر سے آئے ہوئے نوجوانوں کا خون گرمائے رکھا۔اکیس شہروں سے آئے ہوئے اکہتر نوجوان جو اپنے اپنے شعبے میں
نمایاں کام سر انجام دے رہے ہیں ان میں ایک یہ قلم قار وارث بھی تھا۔
قصہ کچھ یوں ہے کہ سکھر میں پاکستان لیجنڈ کانفرنس کے نام سے ایک تین روزہ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں شامل ہونے کے لیے ملک بھر سے درخواستیں موصول کی گئیں اور پھر ان وصول کی گئی درخواستوں میں سے اکہتر خوش نصیب نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو کانفرنس میں شامل ہونے کے لیے منتخب کیا گیا۔
بارہ اکتوبر جمعہ سے شروع ہونے والی کانفرنس میں شرکت کے لئے یہ قلم کار جمعرات گیارہ اکتوبر کی رات بارہ بجے بذریعہ ٹرین سکھر روانہ ہوا۔ ایک قابل ذکر بات یہاں بتاتا چلوں کہ کانفرنس کے لیے جانے والا یہ قلم کار سکھر میں ہونی والی کانفرنس کے حوالے سے کسی سے کبھی باضابطہ طور پر نہیں ملا تھا صرف فون پر رابطہ تھا تو دل میں ایک عجیب سی کشمکش تھی کہ جایا جائے یا نہیں کیونکہ اس سے پہلے کبھی سکھر یاترا نصیب نہیں ہوئی تھی سو فیصلہ کرنے کی عادت ہماری یہاں بھی دوسری سوچوں پر حاوی ہوگئی اور بالآخر جانے کی ٹھان لی،تو رات ساڑھے پانچ بجے روہڑی اسٹیشن پر اترنا ہوا اب ایک اور بات کہ ہمیں یہ پتہ وہاں جا کر چلا کہ سکھر اور روہڑی دو اسٹیشن ہیں اور جس جگہ اس قلم کار کو پہنچنا ہے وہ روہڑی اسٹیشن سے چالیس منٹ کے فاصلے پر ہے ،پر جیسے تیسے کر کے اپنے مقررہ ہوٹل پر پہنچے تو وہاں اور ہی صورتحال تھی کیونکہ کانفرنس کے شرکاء کو گیارہ اکتوبر شام پانچ بجے تک ہوٹل پہنچنے کا کہا گیا تھا پر جب ہم پہنچے توصبح کے چھ بج رہے تھے اور کانفرنس کی انتظامیہ خواب خرگوش میں گم تھی ، پر ہمارے فون کرنے کے بعد ایک خوش شکل خوبصورت محترمہ نے ہمارے لیئے ہوٹل میں کمرے کاانتظام کر ہی دیا (یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ پھرتین روز تک اس قلم کار کی نظریں اس خوش شکل محترمہ پر ہی مرکوز رہیں) خیر کمرے میں پہنچے اور ابھی سوئے ہی تھے کہ کوئی تیز تیز دروازہ پیٹنے لگا،اس کی کافی محنت کے بعد دروازہ کھولا تو ہمیں سامنے کھڑی ایک محترمہ نے جھنجلا کر کہا کہ اٹھ جائیں جناب صرف آپ کا انتظار ہے باقی سب تیار ہیں ہمیں آئی بی اے یونی ورسٹی کے لئے نکلنا ہے ،خیر بھاگم بھاگ تیار ہوئے اور ناشتے کے لئے ہوٹل کے ڈائننگ ہال میں پہنچے ایک سپ چائے کا لیا اور دیگر نوجوانوں کے ساتھ آئی بی اے یونی ورسٹی روانہ ہو گئے، یہاں تک کسی سے کوئی بات نہیں ہوئی تھی صرف ان دو لڑکوں کے علاوہ جو ہمارے ساتھ کمرا شیئر کر رہے تھے،خیر یونی ورسٹی پہنچ کر سیشن کے لیے مقررہ آڈیٹوریم پہنچے جہاں پر مختلف سیشن میں مشہور مقررین نے حوصلہ افزاء تقریریں کیں اور مختلف سرگرمیاں کروائیں، اس کے بعدوہاں سے ہم سب سے پہلے سکھر بیراج گئے پھر سعد بھیلو میں کشتی رانی کی سیر کی،
ٹیم جھولے لعل کے ہمراہ
سکھر کے مشہور سات بہنوں کا مزار دیکھا، قینچی پل کی سیر بھی کی وہاں سے شاہ نجف روہڑی بھی گئے ، سادہ لفظوں میں یہ کہ ایک خوبصورت اور تھکاوٹ بھرا دن گزار کر ہوٹل پہنچے تو بتایا گیا کہ ایک اور پروگرام میں جانا ہے پر اس قلم کار سمیت دیگر نے بھی صاف انکار کردیا پر جب بتایا گیا کہ ڈی جے پارٹی ہے تو
سب تیار ہوگئے۔اس ڈی جے پارٹی سے رات تین بجے واپس ہوٹل پہنچے۔ 
دوسرے دن پھر صبح سات بجے دروازہ پیٹا گیا،سکھر ہوٹل میں ناشتہ کیا اور یہاں سے خیر پورمیرس کی جانب روانہ ہوگئے،پیر ابھن شاہ کے مزار پہنچے جہاں ایک عجیب ہی سکون اور کشش تھی۔پھر کوٹ ڈیجی قلعہ گئے اور قلعے میں ہی ایکو ساؤنڈ کی موجودگی میں خوب محفل جمائی اور پورے قلعے کی سیر کی، یہاں سے سچل سرمست کے مزار پر روانہ ہوئے جہاں پر سچل کے مزار پر موجود ملنگوں کے ساتھ خوب دھمالیں ڈالیں۔ لگ بھگ رات آٹھ بجے تک واپس سکھر ہوٹل پہنچے تو یہاں ثقافتی پروگرام کی تیاریاں مکمل تھیں،جس کے لیے پاکستان بھر سے آئے ہوئے نوجوانوں نے اپنی اپنی ثقافت کے حساب سے لباس زیب تن کئے اس پرواگرام میں بھی خوب لطف اندوز ہوئے ،یہاں بھی مقررین نے حوصلہ افزاء سیشن دئے ، آخر میں لسی کی آمد نے تو محفل میں چار چاند لگا دئے اور اس قلم
قلم کار شہید بھتو کے مزار پر
کار نے تو لسی کے بھر بھر کے دس سے بارہ گلاس پیئے۔
تیسرے اور آخری روز کا سفر صبح دس بجے لاڑکانہ روانگی سے شروع ہوا جس میں ڈیڑھ گھنٹے کا سفر طے کر کے ہم اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ گڑھی خدا بخش میں شہید بھٹو کے مزارپر پہنچے تو مزار کی خوبصورت عمارت دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ مزار میں بی بی شہید اور بھٹو شہید سمیت دیگر شہداء کی قبروب پر فاتحہ خوانی کی، بعد ازاں وہاں سے موہن جو دڑو روانہ ہوئے۔
موہن جودڑو جسے جب بھی بیس کے نوٹ پر دیکھتے تھے تو وہاں جانے کی خواہش ہوتی تھی خیر ساڑھے پانچ ہزار سال پرانی تہذیب دیکھنے کا شوق ہماراپورا ہو ہی گیا اور ہم اس تین روزہ کانفرنس کے آخری روز موہن جو دڑو پہنچ ہی گئے،میوزیم کا دورہ کیا، دڑے کی سیر کی گائیڈ سے ساری داستان سنی تصویریں بنوائیں خوب لطف اندوز ہوئے۔ یہاں سے شروع ہونا تھا اب واپسی کا سفر دو گھنٹے کا سفر طے کر کے واپس سکھر پہنچے یہاں پاکستان لیجنڈ کانفرنس کی آخری تقریب
جس میں سرٹیفیکٹس تقسیم کئے گئے میں شرکت کی۔
دوستوں کے ہمراہ واپس حیدراآباد جاتے ہوئے
پھر شروع ہوا ایک مسئلہ کہ واپس کیسے جایا جائے بس اڈے سے پتہ کروایا تو سیٹ ملنے کی امید نظر نہ آئی خیر حیدرآباد سے ہی آئے ہوئے اپنے د یگر تین ساتھیوں کے ہمراہ جن سے سکھر سے پہلے کبھی نہیں ملے تھے ریلوے اسٹیشن کی جانب روانہ ہو گئے جہاں پر پہنچ کر ہمیں کسی ٹرین میں کوئی ٹکٹ نہیں ملا تو خیر خیر کرکے فیصلہ کیا کہ بغیر ٹکٹ چلتے ہیں ہمیشہ سنتے آئے ہیں کہ ٹرین کے اندر کچھ نہ کچھ ہو جاتا ہے دیکھ لیں گے خیر خیبر میل آئی اور اس میں ایک پولیس والے سے بات کی تو اس نے سیٹیں دلوادیں پر سیٹیں کچھ یوں ملیں کہ ہم چاروں الگ ہوگئے
 تو ہم نے فیصلہ کیا کہ ٹرین کے ڈبوں کے گیٹ پر چادر بچھا کر سفر کرتے ہیں اس طرح ہمارا یہ سکھر سے حیدرآباد ساڑھے چار
گھنٹوں کا سفر بہت ہی شاندار گزرا۔
اب بات کریں پاکستان لیجنڈ کانفرنس کی تو اسے لفظوں میں بیان کرنا ممکن ہی نہیں، آسان لفظوں میں لکھوں تو گیا اکیلا تھا ساتھ دوستوں کی فوج لایا ہوں۔ 
ایک اور قابل ذکر بات اس تین روزہ سفر کی یہ کہ ہم نے ایک نعرہ سیکھا جو ہمیشہ یاد رہے گا ،کیونکہ اس سے بہت یادیں وابستہ ہیں ۔ 
لما ٹینگ ٹینگ، لما ٹانگ ٹانگ، لما ٹینگ ٹپک کے ٹھاہ۔
ٹپک کے ٹھاہ۔
ٹپک کے ٹھاہ۔


قلم کار: وارث بن اعظم

Saturday, 8 September 2018

صحافت کی ویکی پیڈیا الیاس شاکر


صحافت کی ویکی پیڈیا الیاس شاکر

اردوکا ایک روشن ستارہ، بیش بہا نامعلوم شاگردوں کا استاد، صحافت کا پیکر،جس کا قلم جب بھی لکھتا تو لکھتا صرف سچ،معلومات اتنی کے قابل سے قابل انسان اُس کے دلائل کے آگے ڈھیر،حق گوئی کا ماہر ایک روشن باب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا،حیدرآباد میں 26اکتوبر1951کو پیدا ہونے ولا الیاس جس کے بارے میں کوئی نہیں کہ سکتا تھا کہ یہ آگے چل کر ایسی گراں قدر خدمات انجام دے گا،تاریخ کے ہر اس پہلو پر نظر ڈالے گا،جسے بڑے بڑے نام والے صحافی لکھنے سے کتراتے ہیں،ہر اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرے گا جس سے کسی کی حق تلفی ہوئی ہو۔
نظم کرنے کو قوم کی تاریخ
مجھ سے کہتا تھا ایک دن کوئی
با ادب میں نے عرض کی کہ
مجھے نہیں آتی ہے مرثیہ گوئی 
قومی اخبار کے ایڈیٹر انچیف الیاس شاکر نے اپنی تحریروں کے ذریعے ملک و قوم کے ساتھ ساتھ زبان و ادب کے لیے بھی اہم خدمات انجام دی ہیں،بھاری، موٹے اور غیر ضروری الفاظ کے بغیر تحریریں سادہ اور اتنی نفیس لکھتے کے ہر پڑھنے ولا بغیر کسی دشواری کے سمجھ جائے۔تاریخ کا شاید ہی کوئی ایسا واقعہ ہو جس پر الیاس شاکر کا قلم خاموش ہو،الیاس شاکر نے ہر واقعے کے خلاف آوازبلند کی،خاص طور پر کراچی کے ہر مسائل کو اپنے قلم کے ذریعے اجاگر کیا اور حق و سچ کا علم بلند کیا۔الیاس شاکروہ شاہین ہے جس پر اقبال کا یہ شعر سو فی صد جچتا ہے کہ 
شاہین کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گرتا
پُر دم ہے اگر تُو تو نہیں خطرہ افتاد
الیاس شاکر صاحب سے کچھ عرصے قبل ایک اتفاقیہ ملاقات ہوئی اور میں نے انہیں بتایا کہ سیاست سے لگاؤ ہے اور صحافت میں دلچسپی ہے کوئی گڑ بتایئے کہ میں اپنے یہ دونوں شوق ایک ساتھ پورے کر سکوں تو انہوں نے مجھے ایک خوبصورت جملہ کہ کر بات سمیٹ دی کہ بیٹا وقت کے ساتھ چلنا سیکھو۔
تاریخ کا یہ باب تاریخی خدمات انجام دینے کے بعد جمعہ کی رات سینکڑوں آنکھوں کو اشک بار کرتے ہوئے امر ہو گیا، دعا ہے اللہ پاک الیاس شاکر صاحب کے درجات بلند کرے۔ (آمین)

تحریر: وارث بن اعظم