Friday, 27 April 2018

حیدرآباد میں کھلے عام فروخت ہوتا مضر صحت آئل



حیدرآباد میں کھلے عام فروخت ہوتا مضر صحت آئل


پاکستان میں اس وقت کئی اقسام کی بیماریوں کا راج ہے ، جس میں بلڈ پریشر، کولیسٹرول، پھیپھڑوں کی بیماری، جگر کی بیماری اور دیگی کئی اقسام کی بیماریا ں ہیں جنہوں نے پاکستانیوں کا جینا دو بھر کیا ہوا ہے، اگر ان بیماریوں کے بارے میں کسی ڈاکٹر سے صلاح کی جائے تو وہ سب سے پہلے ان
بیماریوں کا سبب مضرِ صحت اشیاء اور باہر کے آلودہ کھانوں کو قرار دیتے ہیں ، اور لوگوں کو زیادہ سے زیادہ گھر پر کھانا کھانے کا مشورہ دیتے ہیں ،لیکن جب ان مشوروں پر عمل کرنے کے بعد بھی انسان کی زندگی میں بہتری نہیںآتی تو وہ سوچ میں پڑ جاتا ہے کے آخر کیا وجہ ہے، جب وہ اس امر پر سوچ و بچار کرتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ مسئلا صرفباہر کے کھانوں میں ہی نہیں ہے بلکہ گھر کے کھانے کی بھی صورتحال بھی باہر جیسی ہی ہے، کیونکہ وہ سبزی ، دال، چاول ہر چیز کواچھی طرح دھو کر استعمال کرتا ہے ، لیکن جب بات کوکنگ آئل کی آتی ہے تو وہ بغیر کچھ سوچے ایک اچھی اور نامور کمپنی کا کوکنگ آئل استعمال کر لیتا ہے، اور کچھ جعلسازوں اور ناجائز منافع خوروں کی وجہ سے بیماریوں کی طرف کھنچتا چلا آتا ہے۔ حیدرآباد پاکستان کا چھٹا اور صوبہ سندھ کا دوسرا بڑا شہر ہے،حیدرآباد جیسے شہر میں اس وقت کھلے تیل کا کام عروج پر ہے اور اس وقت حیدرآباد میں کھلا تیل بنانے کے کارخانوں کی تعداد 100 سے زیادہ ہے جس میں سے زیادہ تر کارخانے شہر کے پوشعلاقوں میں واقع ہیں جن میں ٹاور مارکیٹ، ہیرآباد، فقیر کا پڑ، پریٹ آباد اور ٹنڈو ولی محمد قابل ذکر ہیں، اور ان کارخانوں سے یہ مضر صحت آئل تقریباََ پورے سندہ کو سپلائی ہوتا ہے اور یہ کارخانے مشہو ر کمپنیز کا نام اور اُن کمپنیز کے مونوگرام آئل کے ڈبوں میں چھپواکر پورے سندھ میں سپلائی کرتے ہیں اور اس آئل کی فی کلو قیمت 160سے200 روپے تک ہوتی ہے، ملنے والی معلومات کے مطابق یہ کارخانے آئل بنانے کے لئے جانوروں کی آنتیں، اوجھڑی، مرغیوں کی ٹانگیں، اور جانوروں کی ہڈیوں کا استعمال کرتے ہیں، اس دوران جب ایک کارخانے میں کام کرنے
والے مزدور سے پوچھاگیا کہ کیا کبھی کوئی ویجیلنس ٹیم یا پولیس یہاں چھاپہ مارتی ہے تو اُس نے بڑے اطمینان سے جواب دیا کہ مالک لاکھوں روپے ماہانہ اوپر پہنچاتا ہے تو کونسی ٹیم کونسا چھاپہ، کافی تگ و دو کے بعد جب ایک فرض شناس پولیس والے سے رابطہ کیا تو اُس نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ بات بلکل صحیح ہے کہ اس وقت حیدرآباد میں مضر صحت آئل کے کارخانوں کی تعداد سو سے زیادہ ہے اور ہر کارخانے کا مالک اپنی حدود میں آنے والے تھانے کو ماہانہ پیسے پہنچاتا ہے ، جو نیچے سے لے کراعلی پولیس حکام تک پہنچتے ہیں۔ جب عام شہریوں سے اس کھلے آئل کے بارے میں دریافت کیا گیا تو اُن کا کہنا تھا کہ کافی لوگوں نے اس قسم کے کارخانے گھروں میں چھپا کر لگا رکھے ہیں جن میں بیمار
جانوروں کے اعضاء سے آئل تیار کیا جاتا ہے اور اسے ٹین کے ڈبوں میں ایک مشہور کمپنی کا مونو گرام لگا کر مارکیٹ میں پہنچا دیا جاتا ہے ، اور لوگوں کیلئے یہ معلوم کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کیا اصلی ہی اورکیا نقلی۔

ان منافع خوروں کی ذرا سی لالچ نجانے کتنی معصوم زندگیوں کو تباہ کر دیتیں ہیں اور اس خراب اور مضر صحت آئل کی وجہ سے انسان بے شمار جان لیوا بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں جن میں ہیپاٹائیٹس سی، ہیپاٹائیٹس بی، پھیپھڑوں کی بیماری اور نجانے کتنی اوربیماریاں شامل ہیں۔

Sunday, 14 January 2018

Travelogue Sindh University to Sindh Assembly


سندھ اسمبلی کے باہر طلبہ اور اساتزہ کا گروپ فوٹو
سندھ اسمبلی کے باہر طلبہ اور اساتذہ کا گروپ فوٹو

سندھ یونی ورسٹی سے سندھ اسمبلی 

کہتے ہیں کہ صبح کے پہر دیکھے جانے والے خواب اکثر سچے ہوتے ہیں شاید میڈیا کمیونیکیشن کے طالبعلموں کو
سندھ اسمبلی لے جانے کا خواب بھی شعبے کے چیئرمین نے صبح کے وقت ہی دیکھا ہوگا، جو اُن کی محنت
اور جذبے کے تحت تعبیر کو پہنچا اور یہ خواب حقیقت کی شکل اختیار کر گیا، 13مارچ کا دن سندھ یونی ورسٹی کی تاریخ میں سنہری الفاظوں میں یاد رکھا جائے گا کہ اس دن سندھ یونی ورسٹی کی تاریخ میں پہلی بار کسی شعبے کہ طالبعلموں کی ایک کثیر تعداد نے سندھ اسمبلی کا دورہ کیا، قصہ کچھ یوں ہے کہ سندھ یونی ورسٹی کا میڈیا اینڈ کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ دن بہ دن ترقی کے منازل طے کر رہا ہے اسی تناظر میں شعبے کے چیئرمین ڈاکٹر بدر سومرو صاحب نے اپنے طالب علموں کو سندھ اسمبلی لے جانے کا ایک پروگرام ترتیب دیا تا کہ طلبہ وہاں جا کر پارلیمانی جرنلزم سے استفادہ حاصل کر سکیں اسی اثناء میں ضروری کاروائی کے بعد 13 مارچ کو سندھ اسمبلی کا پروگرام ترتیب دیا گیا ،تقریباََ 10 بجے سندھ یونی ورسٹی سے طالب علموں کی ایک کثیر تعداد چیئرمین ڈاکٹر بدر سومرو اور دیگر سینئر اساتزہ کی نگرانی میں سندھ یونی ورسٹی کی بلو پوائنٹ میں روانہ ہوئے ، اسمبلی جانے  کی خوشی ہر طالب علم کے چہرے پر خوب عیاں تھی جس کا بر ملا اظہار سفر کے دورن ڈانس اور دیگر طریقوں سے کیا گیا، تقریباََ1بجے سندھ اسمبلی پہنچے، سب طلبہ کو اُن کے انٹری کارڈ دیئے گئے سخت چیکنگ کے بعد اسمبلی کے اندر جانے کی اجازت ملی جنہیں آج تک صرف ٹیلی وزن اسکرین پر دیکھا تھا آج پہلی بار سامنے دیکھنے کا اعزاز حاصل ہوا، خوشی کا اُس وقت ٹھکانہ نہیں رہا جب دورانِ اجلاس اسپیکر سندھ اسمبلی جناب آغا سراج خان دُرانی صاحب نے ہمارے ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین اور دیگر اساتذہ کا نام لے کر ہمیں ویلکم کیا اس موقع پر دیگر تمام میمبرانِ اسمبلی نے بھی ہاتھ ہلا کر ہمیں ویلکم کیا یہ ایسا موقع تھا جو کہ بھولے نہیں بھولے گا، تمام طالب علموں نے ان حسین لمحات کو اپنے موبائل کی آنکھوں میں قید کیا، سندھ اسمبلی کا سیشن ختم ہو نے کے بعد ہم سب ڈاکٹر بدر سومرو صاحب کے ساتھ سیکریٹری سندھ اسمبلی کے کمرے میں گئے جہاں اُنھیں ڈپارٹمنٹ کی شیلڈ ، شعور میگزین اور روشنی اخبار پیش کیا گیا اور انھیں بتایا گیا کہ روشنی اخباراور شعور میگزین پاکستان کا وہ واحد اخباراور میگزین ہے جو TRILINGUAL یعنی   تین زبانوں میں نکلتا ہے جسے سیکریٹری صاحب نے خوب سراہا اس کے بعد طلبہ نے اسمبلی کے باہرپریس اراکین کے ساتھ وقت گزارا اور پارلیمانی جر نلزم کے حوالے سے معلومات اور اُن کے تجربے سے استفادہ کیا۔
سفر یہیں ختم نہیں ہوا سندھ اسمبلی کے بعد تمام طلبہ نے آرٹس کاؤنسل کراچی کا رُخ کیا جہاں ڈاکٹر ایوب شیخ اور کراچی آرٹس کاؤنسل کے صدر احمد شاہ صاحب کی طرف سے طلبہ اور اساتذہ کے اعزاز میں ایک پُر وقار عشائیہ دیا گیا ، جہاں  پر آرٹس کاؤنسل کے صدر احمد شاہ صاحب نے اپنے خیا لات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کچھ عرصے پہلے کراچی یونی  ورسٹی کا ایک وفد آرٹس کاؤنسل آیا تھا جس میں تقریباََ طالبات نے حجاب کیا ہوا تھا پر آج یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ سندہ یونی  یورسٹی میں حقیقت اس کے بر عکس ہے اور یہاں کراچی یونی ورسٹی سے زیادہ شعور ہے، اُن کا مزید کہنا تھا کہ آرٹس کاؤنسل کراچی کے دروازے میڈیا کمیونیکیشن کے طالب علموں کے لئے ہمیشہ کھلے ہیں ، آرٹس کاؤنسل کے عشائیے میں میڈیا  کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ کے ایک سابق استاد ڈاکٹر ہر بخش مکھیجانی نے بھی شرکت کی جنھیں طلبہ اپنے درمیان دیکھ کر پھولے نہیں سمائے اور تالیوں کی بھر پور گونج میں اُن کا استقبال کیا۔
اسکے بعد طلبہ نے کراچی پریس کلب کا رُخ کیا جہاں ایک سیشن میں شرکت کی اسکے بعد مشہور صحافی اورکالم نویس مظہر عباس  اور کراچی پریس کلب کے صدر اور دیگر عہدیداران کی طرف سے ایک ہائی ٹی سیشن کا انتظام کیا گیا جہاں پر تمام عہدیداران بشمول مظہر عباس نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اپنی تیخی باتوں سے حاضرین کو خوب لطف اندوز کیا، اس موقع پر طالب علموں کو بھی بولنے کا موقع دیا گیا اور سوال و جوابات کا سیشن ہوا۔
کراچی پریس کلب کے دورے کے بعد اگلا پڑاؤ سندھ ٹی وی پر ڈالا گیا جہاں پر ریکارڈنگ، لائیو پروگرامنگ، لائیو نیوز ، ایڈیٹنگ اور دیگر طریقوں کے بارے میں خوب معلومات حاصل کی گئیں، ہر طالب علم کو سندھ ٹی وی کے  ہر سیکشن کا دورہ کرایا گیا اور بھر پور معلوموت فراہم کی گئیں۔
بے شک یہ سفر زندگی کا ایک بہترین سفر تھا جو شائد کبھی نہیں بھول پائینگے۔

Wednesday, 10 January 2018

اور زینب ہار گئی


اور زینب ہار گئی۔۔۔۔


زینب کو بھی شہید کہ دو ،دے دو اُس کی ماں کو دلاسے کے زینب شہید ہوئی ہے، کر لو جھوٹے وعدے ، لے لو ایک اور نوٹس، آخر کب تک جھوٹ کی لاٹھی پکڑے رکھو گے، کیا قصور تھا زینب کا کیا قصور تھا اُس کے گھر والوں کا صرف یہ کہ وہ قصور کی رہائشی ہے جہاں اس سے پہلے بھی نہ جانے کتنی زینب قتل کر دی گئیں ، نہ جانب کتنی زینب سنگسار کی گئیں ، کیا تمھیں نہیں یادعمان فاطمہ، کیا تمھیں نہیں یاد فوزیہ ، کیا تمھیں نہیں یاداسمہ، تمھیں تو نور فاطمہ اور لائبہ بھی یاد نہیں ہونگی جو اس ہی شہر کی رہائشی تھیں اور سنگسار کرکے اسی بے دردی سے قتل کر دی گئیں ، ایک سال کے دوران اس طرح کے بارہ واقعات ہوئے ، ایک ہی عمر کی لڑکیوں کو نشانہ بنایا گیا،اسی شہر میں ہوئے نوٹس پر نوٹس لئے گئے، تین ڈی پی او بدلے گئے پر کیا ہوا کچھ نہیں ۔۔۔ کسی نے بھی کیا خوب کہا ہے یہاں سب بکتا ہے تم دام تو بولو ۔۔
زینب ایک پھول جیسی بچی نجانے کتنے خواب تھے اُس کی آنکھوں میں کیا کیا سوچا ہو گا اُس کے ماں باپ نے اُس کے لئے، بچے گھر کی رونق ہوتے ہیں ، گھر مہکتا ہے بچوں سے، نہ جانے کون سے انسان کی شکل میں بھیڑئیے ہیں ، کیسی حوس ہے یہ جو ان معصوم پھولوں کو کچل رہی ہے، زینب کے قتل کے دو زمیدار ہیں ایک وہ ظالم بھیڑئیے جنہوں نے زینب کو قتل کیا دوسرے تم ظالم حکمران جو زینب کو سنگسار ہونے سے نہ روک سکے، پاکستان جو اسلامی نظرئیے کی بنیاد پر بنا تھا، کہاں گیا تمھارا وہ نظریہ، یاد نہیں تمہیں کہ حضرت عمر کے دل کو خوف اُن کا راتوں کو اس ڈر سے گھومنا کہ کوئی بھوکا نہ سوجائے، کہیں کوئی جانور ٹھوکر لگنے سے بھی زخمی نہ ہو جائے، سوال ہو گا تم سے بھی ایک ایک زینب کا کیوں نہیں بچا سکے زینب کو ، ایک ایک کا جواب دینا ہوگا، خدارا اب بھی وقت ہے جاگ جاؤ اس زینب کو تو نہ بچاسکے اور نہ جانے کتنی زینب ایسی ہیں جنہیں یہ حوس کے پجاری نشانہ بنانا چاہتے ہیں ، بچالو اُنھیں ۔۔۔۔

Tuesday, 2 January 2018

Thank You Trump


شکریہ ٹرمپ (ایک معصومانہ سوال؟ ۔۔۔


ٹرمپ صاحب جسے شاید تقریباََ پوری دنیا ہی غلط گردانتی ہے پر آج میں سلام پیش کرتا ہوں ٹرمپ صاحب کوشکریہ ادا کرتا ہوں کہ اُن کی ایک ٹوئیٹ نے برسوں سے سوئی اور غلام بنی ہوئی قوم کو سوچنے پر مجبور کردیا ہے، جی ہاں یہاں بات ہو رہی ہے مسلم دنیا کے واحد ایٹمی پاور ملک پاکستان کی جو ایک طویل عرصے تک ایسے ملک کا غلام بنا رہا جس نے اُسے ہمیشہ جوتے کی نوک پر رکھا یہاں تک کہ کئی مواقع پر تو ٹھوکر مار کر گرانے کی بھی کوشش کی اور یہ کوششیں مختلف صورتحال میں ابھی تک جاری ہیں اور پاکستان جیسا ایٹمی پاور رکھنے والا ملک سب کچھ سمجھنے کہ باوجود با خوشی غلامی کرتا رہا حلانکہ شمالی کوریا جیسا ایک ڈھائی انچ کا ملک امریکہ کے ناک میں دم کر کے رکھتا ہے اور پاکستان اُس کے ہر ڈومور کے مطالبے پر سر تسلیم خم کر دیتا ہے، اب وقت ہے کہ حکمران اور قوم جاگ جائے ، اب وقت ہے کہ کشکول توڑ دیا جائے، یہی امریکہ ہے کہ جس کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہو کر کسی اور ملک کی جنگ ہم اپنے ملک میں کھینچ لائے ہزاروں فوجی ، بے قصور بچے ،بوڑھے، خواتین، مرد اور نہ جانے کتنی انمول شخصیات اس خانہ جنگی کا شکار ہو گئے، اور ہم یہ سوچ کر حقیقت سے عاری ہو جاتے ہیں کہ سب شہید ہو گئے ، کیا یہ شہادت ہے؟شہادت کہتے کسے ہیں؟صاحب جی شہادت لفظ دل کو بہلانے کے لئے تو بہت اچھا ہے پر جب آنکھوں پر پڑے پردے ہٹا دئیے جائیں تو لگ پتا جا تا ہے کوئی ہے ہمت والا توجھانک کر دیکھے پشاور اے پی ایس اسکول میں ہونے والی دہشت گردی میں جاں بحق ہونے والے پھولوں جیسے معصوم بچوں کے والدین کی آنکھوں میں ۔۔۔ 
کہ ایک ہی سوال نظر آئے گا کہ اُن کے بچے اسکول گئے تھے یا بارڈر پر؟ پڑھنے گئے تھے یا جنگ لڑنے؟ کوئی پوچھے سہون شریف دھماکوں میں جاں بحق ہونے والوں کہ لواحقین سے کہ اُن کے پیارے سہون شریف اپنے قلبی سکون کے لئے گئے تھے یا ٹکڑوں میں کٹ جانے؟ کوئی پوچھے داتا دربار، نشتر پارک، لیاقت باغ، کارساز میں ہونے والے دھماکوں میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے۔۔۔۔ 
چلو مان لیتے ہیں کہ یہ سب شہادتیں تھیں تو لاہور یوحناآباد میں جو معصوم لوگ جاں بحق ہوئے کیا وہ بھی شہید تھے؟ کیوں کہ میرے نظرئیے کے مطابق تو شہید صرف مسلمان ہی ہوتا ہے تو ان معصوم لوگوں کے لواحقین دل کو بہلانے کے لئے کونسا لفظ استعمال کریں؟ یہ تو صرٖ ف چند باتیں ہیں مسلم دنیا کے واحد ایٹمی پاور ملک کی تاریخ تو ایسے واقعوں سے بھری پڑی ہے ، یہ سب اُس ہی خانہ جنگی کا نتیجہ ہے کہ جس میں پاکستانی قوم بنا سوچے سمجھے ایک طویل عرصے تک پھنسی رہی، اور اب ایک ٹوئیٹ میں سب سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں ، اب وقت ہے فیصلے کرنے کا ، کیا ہوگا ملک کی معیشت تباہ ہو گی؟ دنیا بھر میں پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا؟ اقبال نے شاید ایسے ہی موقعوں کے لئے کہا تھا کہ خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا۔

Saturday, 15 April 2017

Dispute b/w Sindh and Federal Govt...!!



وارث بن اعظم
2K14/MC/102

بلاگ: سندھ اور وفاقی حکومت کے درمیان تنازعہ

سندھ میں اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی اقتدار میں ہے اور وفاق میں مسلم لیگ  نواز کی حکومت ہے، یہ دونوں جماعتیں ہمیشہ سے ہی ایک دوسرے کی شدید مخالف  رہی ہیں ، مسلم لیگ نواز کا سندھ میں ووٹ بینک بلکل نہ ہو نے کے برابر ہے ،اس کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ نواز کا پنجاب میں کافی اثر و رُسوخ ہے ، جسکی وجہ سے وفاقی حکومت کا زیادہ تر دھیان پنجاب تک ہی محدود رہتا ہے، اسی بناء پر وفاقی حکومت کا سندھ حکومت سے روابط ہمیشہ خراب رہے ہیں، اور سندھ حکومت کو وفاق سے ہمیشہ شکایت ہی رہتی ہے کہ وفاق سندھ کے ساتھ نا انصافی کرتا ہے، سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ جس میں صوبوں کو اُن کے وسائل کے مطابق حصہ دیا جاتا ہے، جس میں زیادہ تر ٹیکس سندھ سے جمع ہوتا ہے ،اور ایک اندازے کے مطابق پورے   پاکستان کے روینیو کا  ستر فی صد کراچی سے جمع ہوتا ہے، سندھ کو اُس کا صحیح حق نہیں دیا جاتا، اسی طرح پانی کی تقسیم میں بھی سندھ سے زیادتی کی جاتی ہے اور سندھ حکومت کے مطابق سندھ کے پانی کا ایک بڑا حصہ پنجاب کو دے دیا جاتا ہے جو کہ سراسر زیادتی ہے، آجکل سندھ میں گیس فراہمی پر وفاق سے حالات کشیدہ ہیں ، واقعہ کچھ یوں ہے کہ سندھ حکومت نے نوری آباد کے قریب ایک بجلی کا پاور پلانٹ لگایا ہے اور گیس کمپنی سے اس ضمن میں بات بھی ہو گئی تھی پر اب پروجیکٹ کی تکمیل کے بعد سوئی گیس کمپنی نے گیس کی فراہمی سے انکار کر دیا ہے،جس پر وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے وفاقی حکومت کو کہا ہے کہ سندھ کو مکمل گیس فراہم کی جائے،  سندھ پورے ملک میں گیس کی پیداوار کا 70 فی صد پیدا کرتا ہے ، اور آئین کے آرٹیکل 158 کے تحت جس صوبے سے قدرتی وسائل نکلتے ہوں اس صوبے کا اس پر پہلا حق ہے، اور اگر سندہ کو اس کا حق نہیں دیا گیا تو سندھ سے جانے والی گیس پائپ لائن بند کر دینگے اور سوئی سدرن گیس کمپنی کو اپنی تحویل میں لے لیں گے، آجکل گیس کے معاملے پر سندھ اور وفاقی حکومت کے درمیان شدید تناؤ ہے، دونوں حکومتی وزراء کی جانب سے ایک دوسرے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے، پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے تو یہ تک کہا ہے کہ وزیر اعلی سندھ میں گیس بند کرنے کی طاقت ہی نہیں جس پر مراد علی شاہ نے سوئی سدرن کمپنی کو ایک ہفتہ کا وقت دیا ہے،سندھ حکومت کی طرف سے ہمیشہ وفاقی حکومت کو یہ باور کروایا جاتا ہے کہ وفاق کی طرف سے ترقیاتی منصوبوں میں سندھ کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور وفاقی حکومت کا تقریباََ بجٹ پنجاب پر خرچ کیا جاتا ہے اور حقیقت بھی یہی ہے وفاق کی طرف سے سندھ میں کوئی میگا پروجیکٹ تکمیل کے مراحل تک نہیں پہنچا ہے، ایک موٹر وے حیدرآباد سے کراچی ہے وہ بھی سُپر ہائی وے کو صرف پالش کر کے موٹر وے کا نام دے دیا گیا اور اس پر بھاری ٹول ٹیکس لگا دیا گیا ہے، حالانکہ یہ ابھی مکمل بھی نہیں ہوا ہے پر دو مہینے پہلے وزیر اعظم کی طرف سے اسکا افتتاح کر دیا گیا اس پر بھی سندھ حکومت کے شدید تحفظات ہیں، وزیر اعطم پاکستان میاں نواز شریف پچھلے دو مہینوں سے سندھ کے لگاتر دورے کر رہے ہیں جس میں مختلف ترقیاتی اسکیموں کو اعلان بھی کیا جا رہا ہے، جس میں حیدرآباد میں یونی ورسٹی اور انٹر نیشنل ایئر پورٹ کا قیام، ٹھٹہ کے تمام دیہاتوں میں بجلی اور گیس کی فراہمی ، جیکب آباد، ٹھٹہ، حیدرآباد میں ہیلتھ کارڈ اسکیم کا اعلان ، اسی طرح کراچی میں بھی بے تحاشہ ترقیاتی اسکیموں کا اعلان کیا گیا، 
سندھ حکومت نے ان اعلانات پر بھی وفاقی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے ، سندھحکومت کے مطابق یہ تمام اعلانات جھوٹ پر مبنی ہیں اور میاں نواز شریف صاحب کو اب حکومت میں آنے کے چار سال بعد سندھ کیوں یاد آیا، اور سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ الیکشن سے ایک سال قبل ایسے اعلانات کر کے وہ سیاسی فوائد حاصل کرنا چاہتے ہیں،

Tuesday, 28 March 2017

Government College Phuleli & Hyderabad Expo Center


گورنمنٹ کالج حیدرآباد کا اندرونی منظر
ایکسپو سینٹر حیدرآباد میں آخری نمائش


وارث بن اعظم
2K14/MC/102
بلاگ: ٹھنڈی ہواؤں کا شہر حیدرآباد

سندھ کا دوسرا بڑا شہر حیدرآباد جو کہ اپنی ٹھنڈی ہواؤں کی وجہ سے مشہور ہے، حیدرآباد کا ذکر ہو اور گورنمنٹ کالج پھلیلی کی بات نہ کی جائے تو یہ حیدرآباد کے ساتھ زیادتی ہو گی، گورنمنٹ کالج پھلیلی اکتوبرمیں اپنی تعمیر کے 100 سال مکمل کرنے والا ہے، اس کالج نے کئی نامور سیاستدان، انجینئر، استاد اور ماہرِ معاشیات پیدا کئے ، اس کالج کی بنیاد مس عینی بیسنٹ نے یکم اکتوبر 1917 کو سندھ نیشنل آرٹس کالج کے نام سے رکھی ، 1947 میں پاک بھارت تقسیم کے وقت یہ کالج بند ہو گیا تھا مگر حکومت پاکستان نے21جون1948میں اسے پھر سے کھولا اور نام گورنمنٹ کالج حیدرآباد رکھا ، یہ کالج قدیمی نہر پھلیلی کے نز دیک واقع ہے تو یوں یہ کالج گورنمنٹ کالج پھلیلی کہلانے لگا،کالج میں 21مختلف شعبے ہیں اسکے علاوہ ایک بڑا کرکٹ گراؤنڈ، بیڈمنٹن کورٹ، ٹیبل ٹینس روم، والی بال کھیلنے کی جگہ اور وسیع سر سبز گارڈن ہے، اس کالج کے طلبہ میں کئی ایسی شخصیات بھی شامل ہیں جنہوں نے آگے چل کر بہت شہرت حاصل کی اور اپنے مادرِ علمی کا نام روشن کیا جن میں سابقہ وزیر اعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف،سابق گورنر اسٹیٹ بینک عشرت حسین، مشہورِ زمانہ وائس چانسلر سندھ یونی ورسٹی مظہر الحق صدیقی، اداکارمحمد علی اور دیگر افراد شامل ہیں ، راجہ پرویز اشرف تو اپنی وزارت کے دور میں اپنی مادر علمی کا دورہ بھی کر چکے ہیں،پرنسپل ، پروفیسرز ، ایسوسی ایٹ پروفیسرز ، اساتزہ کی تعداد پر نظر ڈالی جائے تو اس وقت ان کی تعداد117کے قریب ہے اس کے علاوہ 70کے قریب دیگر اسٹاف جس میں کلرک، مالی، قاصد، نائب قاصد،لائیبریرین، کار پینٹر، سیکیورٹی گارد وغیرہ ہیں وہ شامل ہیں۔

حیدرآباد ایکسپو سینٹر نورانی بستی، پریٹ آباد میں واقع ہے، حیدرآباد ایکسپو سینٹر کی بنیاد2008میں سابق گورنر سندھ عشرت العباد نے رکھی، اپنی تعمیر کے بعد ایکسپو سینٹر میں کئی تاریخی نمائشوں کا اہتمام کیا گیا جن میں ناسہ انٹر نیشنل اور حیدرآباد چیمبر آف کامرس کی طرف سے لگائی جانے والی نمائش قابلِ ذکر ہے ، ایکسپو سینٹرایک وقت میں لوگوں کی آمدورفت کی وجہ سے مصروف ترین جگہ بن گیا تھا، پھر صوبائی اور ضلعی حکومت کی چپقلش کی وجہ سے تباہی کے دھانے پر پہنچ گیا ہے، اور اب ایکسپو سینٹر حیدرآباد ماضی کی علامت بن کر رہ گیا ہے، حکومت اور ضلعی حکام  سے گزارش ہے کہ اس پر نظرِ کرم ڈالی جائے تاکہ تاریخ میں ایکسپو سینٹر حیدرآباد ایک بار پھر اپنی آب و تاب کے ساتھ چمکے۔

Sunday, 19 March 2017

Hyderabad Issues

وارث بن اعظم
2K14/MC/102
بلاگ: مسائل میں گھِرا حیدرآباد


حیدرآباد پاکستان کا چھٹا اور صوبہ سندھ کا دوسرا بڑا شہر ہے ، اسکی آبادی ایک 
اندازے کے مطابق3.4ملین ہے اور گاہے بگاہے اس میں تیزی سے 
اضافہ ہوتا جارہا ہے، شہر حیدرآباد میں سہولتوں کا ویسے ہی فقدان ہے اور
آبادی بڑھنے سے اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اگر اندرونِ شہر کی بات
کی جائے تو اندرونِ شہر صرف ایک بڑا سرکاری ہسپتال ہے جو صوبائی اور
ضلعی حکومت کی چپقلش کی وجہ سے تباہ حالی کا شکار ہے، اسکے ساتھ ساتھ
شہر حیدرآباد میں سب سے بڑا مسئلہ ٹریفک کا ہے، روز بروز بڑھتی ہوئی 
گاڑیوں کی تعداد کی وجہ سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہے، ٹریفک کا
مسئلہ پہلے تو مصروف شاہراؤں تک محدود تھا پر اب یہ صورتحال چھوٹی ہو
یا بڑی ہر شاہراہ تک پہنچ گیا ہے، اس حوالے سے شہر حیدرآباد میں 
انکروچمنٹ کے کام کا آغاز کیا گیا تھا شروع شروع میں تو بہت تیزی 
سے کام کیا گیا مگر پھر وہی روایتی بات کہ جب تک غریبوں کی دکانوں،
پتھاروں ، گھروں کو انکروچمنٹ کی نظر کرا جاتا رہا تو سب اچھا تھا مگر جب
انکروچمنٹ والوں کا ہاتھ با اثر لوگوں تک پہنچا تو اس کام کو اثر و رسوخ 
استعمال کر کے رکوادیا گیا۔اسکے علاوہ حیدرآباد میں پانی کا بھی بہت مسئلہ
ہے اول تو پانی آتا نہیں ہے اور اگر آتا بھی ہے تو رات کے کسی پہر عوام
جاگ جاگ کر پانی بھرتی ہے اور وہ پانی بھی بدبو زدہ ہوتا ہے یعنی پینا تو 
درکنار اگر کپڑے بھی دھو لئے جائیں تو کپڑوں میں سے بد بو نہیں جاتی،
یہی وجہ ہے کہ آجکل حیدرآباد میں سب سے زیادہ جو کاروبار عروج 
پر ہے اُس میں پانی کا کام ہے اور حیدرآباد کی عوام خرید کر پانی پینے 
پر مجبور ہے،
کسی دور میں حیدرآباد خوبصورت شہروں میں شمار ہو تا تھا ، مگر اب
نجانے اس کی خوبصورتی کو پتہ نہیں کس کی نظر لگ گئی ہے، صفائی 
ستھرائی کی حالت انتہائی خراب ہے جب کہ پہلے اس کی ذمہ داری
صوبائی حکومت پر ڈال دی جاتی تھی کی بلدیاتی الیکشن نہ ہونے کی وجہ
سے شہر مسائل کا شکار ہے، مگر اب چونکہ بلدیاتی الیکشن ہو ئے بھی تقریباََ
دو سال گزرنے کو ہیں اور مسائل حل تو کیا اُس سے بھی بُری صورتحال 
اختیار کر چکے ہیں،
حیدرآباد میں تعلیم کا بھی کوئی پُرسان حال نہیں ہے ، سرکاری اسکولوں
میں تو تعلیم بلکل نہ ہونے کے برابر ہے اور یہی صورتحال پرائیوٹ 
اسکولوں کی بھی ہے اُن کی کارکردگی بھی صرف فیس کی وصولی تک محدود 
ہے ، کچھ اسکول ہیں جہاں معیاری تعلیم بھی دی جاتی ہے پر اُن کی تعداد
بھی اُونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے۔ ، اسکے ساتھ ساتھ نویں
دسویں کے امتحانات میں کاپی کلچر بھی ایک ناسور کی شکل اختیار کر گیا ہے۔